احمد ایک ایسا طالب علم تھا جس کے سر پر ہر وقت امتحانات کا خوف سوار رہتا تھا۔ وہ ذہین تو تھا مگر سست (Lazy) بھی تھا۔ اسے کتابیں کھولنے سے زیادہ کرکٹ کھیلنا اور ڈرائنگ کرنا پسند تھا۔ جیسے جیسے سالانہ امتحانات قریب آرہے تھے، اس کے والدین اور اساتذہ کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کے والد اکثر کہتے، "بیٹا! اگر اس بار تم فیل ہوئے تو میں تمہیں اسکول سے ہٹا کر کسی دکان پر بٹھا دوں گا۔" یہ الفاظ احمد کے دل میں خوف پیدا کر دیتے تھے۔
ایک اداس شام، احمد شہر کی پرانی لائبریری میں چھپا بیٹھا تھا تاکہ کوئی اسے وہاں ڈھونڈ نہ سکے۔ وہ ایک پرانی کتاب "طلسمِ ہوشربا" پڑھ رہا تھا کہ اچانک کتاب کے صفحات کے درمیان سے ایک عجیب سی چیز گری۔ یہ ایک سیاہ رنگ کی لکڑی کی پنسل تھی جس پر عجیب و غریب سنہری نشانات بنے ہوئے تھے۔ احمد نے اسے اٹھایا۔ پنسل کی نوک (Tip) سے ہلکی سی نیلی روشنی نکل رہی تھی۔ اس پر باریک سنہری حروف میں لکھا تھا: "جو لکھو گے، وہ سچ ہو جائے گا، مگر انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔"
احمد نے پہلے تو اسے مذاق سمجھا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی اور ریاضی کا وہ مشکل ترین سوال لکھا جو اسے پچھلے ہفتے سے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ جیسے ہی اس نے پنسل کاغذ پر رکھی، ایک جھرجھری اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ اس کا ہاتھ خود بخود چلنے لگا۔ اس کا دماغ کچھ نہیں سوچ رہا تھا، مگر ہاتھ تیزی سے لکھ رہا تھا۔ صرف 30 سیکنڈ میں پورا سوال حل ہو گیا، اور وہ بھی بالکل درست! احمد کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک "جادوئی پنسل" ہے۔
اگلے چند دن احمد کے لیے کسی خواب سے کم نہیں تھے۔ اسے اب راتوں کو جاگ کر رٹا لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ بس پنسل جیب میں رکھتا اور بے فکر ہو کر گھومتا۔ امتحانات شروع ہوئے۔ کمرہ امتحان میں جہاں باقی بچے پسینے میں شرابور مشکل سوالات حل کر رہے تھے، احمد کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ تھی۔ وہ پنسل نکالتا، کاغذ پر رکھتا اور پنسل خود بخود ایسے جوابات لکھتی جیسے آئن اسٹائن خود پیپر حل کر رہا ہو۔ احمد کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ لکھ کیا رہا ہے، بس اسے پتہ تھا کہ جواب صحیح ہے۔
نتیجہ کا دن آیا۔ پورے اسکول میں سناٹا تھا۔ پرنسپل اسٹیج پر آئے اور اعلان کیا: "اس سال کی تاریخ کا سب سے بڑا سرپرائز! احمد نے نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی ہے بلکہ تمام مضامین میں 100 فیصد نمبر لیے ہیں۔" تالیوں کی گونج میں احمد اسٹیج پر گیا۔ اسے میڈل پہنایا گیا۔ اس کا حریف، بلال، جو سارا سال محنت کرتا تھا، کونے میں کھڑا رو رہا تھا۔ احمد کو ایک لمحے کے لیے افسوس ہوا، لیکن اس کی جیت کا نشہ اس کے ضمیر پر حاوی ہو گیا۔
لیکن قدرت کا اپنا انصاف ہوتا ہے۔ پرنسپل نے اچانک مائیک پر کہا: "احمد کی اس شاندار کامیابی کو دیکھتے ہوئے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال کا 'لائیو کوئز مقابلہ' (Live Quiz Competition) براہ راست ٹی وی پر دکھایا جائے گا۔ اور ہمارا چیمپئن احمد، اسٹیج پر کھڑے ہو کر ججز کے زبانی سوالات کا جواب دے گا تاکہ پوری دنیا اس کی ذہانت دیکھ سکے۔"
یہ سنتے ہی احمد کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ زبانی مقابلہ؟ لیکن وہ تو صرف "لکھ" سکتا تھا، "بول" نہیں سکتا تھا۔ جادوئی پنسل لکھنے میں مدد کرتی تھی، بولنے میں نہیں۔ تقریب شروع ہوئی۔ کیمرے آن ہوئے۔ احمد اسٹیج کے بیچ میں کھڑا تھا۔ اس کی جیب میں پنسل زور زور سے تھرتھرا رہی تھی، جیسے وہ بھی گھبرا رہی ہو۔
جج نے مائیک سنبھالا اور پہلا سوال کیا: "احمد! تم نے فزکس کے پیپر میں 'نظریہ اضافیت' (Theory of Relativity) پر کمال کا مضمون لکھا تھا۔ ذرا ہمیں اور ناظرین کو آسان الفاظ میں سمجھاؤ کہ یہ نظریہ کیا ہے؟"
پورا ہال خاموش تھا۔ سب کی نظریں احمد پر تھیں۔ احمد نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، مگر حلق سے آواز نہ نکلی۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اضافیت کس بلا کا نام ہے۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ ایک منٹ گزرا، پھر دو منٹ۔ لوگوں نے کھسر پھسر شروع کر دی۔ جج نے دوسرا سوال پوچھا، پھر تیسرا۔ احمد بت بنا کھڑا رہا۔ اس کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہو چکا تھا۔ پسینے کے قطرے اس کی پیشانی سے ٹپک رہے تھے۔
"اس خاموشی نے سب کچھ بیان کر دیا۔ وہ لڑکا جو کاغذ پر ارسطو تھا، حقیقت میں خالی دماغ تھا۔ اس لمحے احمد کو سب سے بڑا سبق ملا: پنسل آپ کو نمبر (Grades) دلا سکتی ہے، مگر علم (Knowledge) اور عزت نہیں۔"
احمد اسٹیج سے روتا ہوا بھاگا۔ وہ سیدھا اسی پرانی لائبریری میں گیا۔ اس نے غصے اور پچھتاوے میں وہ جادوئی پنسل نکالی اور اسے اپنے گھٹنے پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ "مجھے ایسی جیت نہیں چاہیے جو مجھے دنیا کے سامنے ذلیل کر دے،" وہ چیخا۔ اس دن کے بعد، احمد بدل گیا۔ اس نے دوبارہ نچلی کلاس سے پڑھائی شروع کی۔ اس بار اس کے نمبر کم آئے، وہ ٹاپر نہیں تھا، لیکن جب کوئی اس سے سوال پوچھتا، تو وہ سر اٹھا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیتا تھا۔ کیونکہ اب اس کے پاس جادو نہیں، بلکہ اپنی محنت کا علم تھا۔