Introduction: Who was Abu al-Qasim al-Zahrawi?
ابوالقاسم خلف بن عباس الزہراوی (936–1013 عیسوی) جنہیں مغرب میں "Albucasis" کے نام سے جانا جاتا ہے، قرون وسطیٰ کے وہ عظیم ترین مسلم طبیب اور جراح تھے جنہیں بلاشبہ "جدید سرجری کا باپ" (Father of Modern Surgery) مانا جاتا ہے۔ آپ نے ایک ایسے دور میں آپریشن اور جراحی کے فن کو کمال تک پہنچایا جب دنیا اس علم سے بالکل ناواقف تھی۔
آپ کا تعلق اندلس (موجودہ اسپین) کے سنہری دور سے تھا۔ آپ کی تحقیقات اور ایجاد کردہ جراحی کے آلات آج بھی معمولی تبدیلیوں کے ساتھ دنیا بھر کے آپریشن تھیٹرز میں استعمال ہو رہے ہیں۔ آپ کی زندگی محنت، تحقیق اور انسانیت کی بے لوث خدمت کا ایک نادر نمونہ ہے۔
Early Life and Birth (پیدائش اور ابتدائی زندگی)
ابوالقاسم الزہراوی کی پیدائش 936 عیسوی میں اندلس کے مشہور شہر قرطبہ (Cordoba) کے قریب ایک شاہی بستی "الزہراء" میں ہوئی۔ اسی مناسبت سے آپ کے نام کے ساتھ "الزہراوی" لگتا ہے۔ آپ کا تعلق انصار کے ایک معزز خاندان سے تھا جو عرب سے ہجرت کر کے اسپین آباد ہوا تھا۔
آپ کا بچپن قرطبہ کے پرشکوہ علمی ماحول میں گزرا۔ اس دور میں قرطبہ علم و حکمت کا گہوارہ تھا جہاں دنیا بھر سے طالب علم کھچے چلے آتے تھے۔ شہر میں 70 سے زائد لائبریریاں اور سیکڑوں مدارس تھے۔ الزہراوی نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی شہر کے نامور اساتذہ سے حاصل کی اور جلد ہی طب (Medicine) اور جراحی (Surgery) میں وہ مقام حاصل کر لیا کہ خلیفہ الحکم دوم نے آپ کو اپنا شاہی طبیب (Court Physician) مقرر کر دیا۔
Education and Scientific Journey (تعلیم اور تحقیق)
الزہراوی کی تعلیم صرف کتابی نہیں تھی بلکہ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ (تقریباً 50 سال) تجربات اور مشاہدات میں گزارا۔ آپ نے یونانی اور رومی طب (Galen and Hippocrates) کا گہرا مطالعہ کیا لیکن کبھی بھی ان پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے ہر نظریے کو پہلے تجربے کی کسوٹی پر پرکھا اور پھر اسے اپنی کتابوں میں جگہ دی۔
آپ نے قرطبہ کی عظیم لائبریریوں سے فائدہ اٹھایا اور اس وقت کے بہترین جراحوں کی زیر نگرانی کام کر کے اپنے فن کو نکھارا۔ آپ کی تعلیمی پیاس اتنی زیادہ تھی کہ آپ نے پودوں کی جڑی بوٹیوں سے لے کر انسانی جسم کی ساخت (Anatomy) تک ہر چیز کا باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ آپ اکثر ہسپتالوں میں مریضوں کا معائنہ کرتے اور ان کی بیماریوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔
The Masterpiece: Al-Tasrif (کتاب التصریف)
ابوالقاسم الزہراوی کی سب سے عظیم خدمت ان کی کتاب "التصریف لمن عجز عن التالیف" ہے۔ یہ کتاب 30 جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم طبی انسائیکلوپیڈیا (Medical Encyclopedia) ہے جس نے پانچ سو سال سے زائد عرصے تک یورپ کی تمام بڑی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب (Textbook) کام کیا۔
اس کتاب کی تیسویں جلد مکمل طور پر سرجری پر مبنی تھی۔ یہ تاریخ کی پہلی کتاب تھی جس میں جراحی کے آلات کی ہاتھ سے بنی تصاویر (Illustrations) شامل کی گئی تھیں تاکہ نئے سیکھنے والے جراح ان کو دیکھ کر بنا سکیں اور استعمال کر سکیں۔
اس کتاب کا لاطینی ترجمہ "Gerard of Cremona" نے کیا، جس کے بعد پورا یورپ الزہراوی کے علم کا گرویدہ ہو گیا۔ اس کتاب میں ہر بیماری، اس کا علاج، دوائیں بنانے کا طریقہ اور سرجری کے تکنیکی پہلو تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
Inventions and Surgical Tools (جراحی کے آلات اور ایجادات)
الزہراوی نے طب کی دنیا میں 200 سے زائد جراحی کے آلات ایجاد کیے۔ ان میں سے بہت سے آلات آج بھی جدید شکل میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی چند مشہور ایجادات درج ذیل ہیں:
- کیٹ گٹ (Catgut): آپ نے دریافت کیا کہ جانوروں (بھیڑ یا بکری) کی آنتوں سے بنا ہوا دھاگہ اندرونی زخموں کو سینے کے لیے بہترین ہے کیونکہ یہ جسم میں قدرتی طور پر جذب ہو جاتا ہے اور دوبارہ ٹانکے کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
- سرجیکل فورسپس (Forceps): بچوں کی پیدائش میں پیچیدگی کے دوران استعمال ہونے والا یہ آلہ ماں اور بچے کی جان بچانے کے لیے ایجاد کیا گیا۔
- ہڈی کاٹنے والی آری (Bone Saw): ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے یا خراب حصے کو کاٹنے کے لیے باریک آری ایجاد کی۔
- پتھری نکالنے کا آلہ (Lithotomy Scalpel): مثانے سے پتھری نکالنے کے لیے ایک خاص چمچ نما آلہ بنایا۔
- کاؤٹری (Cauterization): زخموں سے خون بہنا روکنے کے لیے داغنے (جلانے) کا طریقہ اور آلات متعارف کروائے۔
Personal Life and Character (شخصیت اور اخلاق)
اتنے بڑے عہدے اور علم کے باوجود، آپ کی شخصیت انتہائی حلیم اور درویش منش تھی۔ آپ مریضوں کا علاج کرتے وقت امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتے تھے اور اکثر غریبوں کا علاج مفت کرتے تھے۔ الزہراوی اپنے شاگردوں کو "میرے بچے" کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دیتے تھے۔
آپ کا مشہور قول ہے کہ: "ایک اچھا جراح وہ ہے جو انسانی جسم کی ساخت (Anatomy) سے مکمل واقف ہو اور جس کا دل نرم ہو، تاکہ وہ مریض کو کم سے کم تکلیف دے۔" آپ اپنی کتابوں میں ڈاکٹروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں اور لالچ سے دور رہیں۔
Death and Legacy (وفات اور مدفن)
انسانیت کا یہ عظیم محسن اور طبیب اعظم 1013 عیسوی میں قرطبہ میں وفات پا گیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً 77 سال تھی۔ اندلس میں مسلمانوں کے زوال اور بعد کے خانہ جنگی کے حالات کی وجہ سے آپ کی اصل قبر (Tomb) کے درست نشانات تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے ہیں، لیکن آپ کا کام آج بھی زندہ ہے۔
قرطبہ کی گلیوں میں آج بھی ایک راستہ "Calle Albucasis" کے نام سے مشہور ہے، اور وہاں آپ کا ایک مجسمہ نصب ہے جو اس عظیم مسلمان سائنسدان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ آپ کا ورثہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری کائنات کے لیے ایک تحفہ ہے۔ جدید میڈیکل سائنس آج بھی الزہراوی کی احسان مند ہے۔