حمزہ ایک بہت ہی ذہین اور پھرتیلا لڑکا تھا، لیکن اس میں ایک بری عادت تھی۔ اسے بات بات پر غصہ آ جاتا تھا اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل میں رکھ لیتا تھا۔ اگر کوئی دوست اس کے ساتھ کھیل میں بے ایمانی کرتا، یا استاد اسے ڈانٹ دیتے، تو وہ کئی کئی دن ان سے بات نہیں کرتا تھا۔ اس کا دل ہر وقت شکایتوں سے بھرا رہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ دوسروں سے ناراض ہو کر انہیں سزا دے رہا ہے، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اصل سزا وہ خود کو دے رہا ہے۔
ایک دن حمزہ کے گاؤں میں ایک بہت ہی سیانے بزرگ آئے۔ لوگ کہتے تھے کہ ان کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے۔ حمزہ بھی ان کے پاس گیا اور بولا: "بابا جی! میرا دل ہر وقت بوجھل رہتا ہے، میں خوش نہیں رہ پاتا۔ لوگ مجھے دکھ دیتے ہیں اور میں اسے بھلا نہیں پاتا۔" بزرگ مسکرائے اور حمزہ کو ایک خالی "سکول کا بستہ" (Backpack) دیا۔ انہوں نے کہا، "بیٹا! یہ جادوئی بستہ ہے۔ آج سے تم جب بھی کسی سے ناراض ہو، یا تمہیں کسی پر غصہ آئے، تو ایک درمیانے سائز کا پتھر اٹھانا اور اس بستے میں ڈال لینا۔"
حمزہ کو یہ کام بہت آسان لگا۔ اس نے سوچا یہ تو بہت مزیدار کھیل ہے۔ اگلے دن سکول میں اس کے دوست علی نے اس کی کاپی پر سیاہی گرا دی۔ حمزہ کو بہت غصہ آیا، اس نے فوراً ایک پتھر اٹھایا اور بستے میں ڈال دیا۔ دوپہر کو ماں نے اسے سبزی پسند نہ آنے پر ڈانٹا، اس نے ایک اور پتھر بستے میں ڈال دیا۔ شام تک بستے میں چار پانچ پتھر جمع ہو چکے تھے۔ حمزہ کو کچھ وزن محسوس ہوا، لیکن اس نے پرواہ نہ کی۔
ہفتہ گزرتا گیا اور حمزہ کا بستہ شکایتوں کے پتھروں سے بھرتا گیا۔ اب بستہ اتنا بھاری ہو چکا تھا کہ حمزہ کے کندھے دکھنے لگے۔ وہ ٹھیک سے بھاگ نہیں سکتا تھا، نہ کرکٹ کھیل سکتا تھا۔ یہاں تک کہ رات کو سوتے وقت بھی اسے وہ بوجھ محسوس ہوتا تھا۔
اب حمزہ کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پتھروں کے بوجھ کی وجہ سے ہر وقت تھکا ہوا اور چڑچڑا رہنے لگا۔ وہ بستہ اتار بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ بزرگ نے کہا تھا کہ جب تک غصہ ختم نہ ہو، پتھر نہیں نکالنے۔ آخرکار، تنگ آ کر وہ دوبارہ بزرگ کے پاس گیا۔ وہ روتے ہوئے بولا: "بابا جی! میں تھک گیا ہوں۔ یہ بستہ بہت بھاری ہے۔ میں چل بھی نہیں سکتا۔ مجھے اس بوجھ سے نجات دلائیں۔ میں کیا کروں؟ کیا میں ورزش کر کے خود کو طاقتور بناؤں تاکہ یہ بوجھ اٹھا سکوں؟"
بزرگ نے شفقت سے حمزہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور ایک ایسی بات کہی جس نے حمزہ کی زندگی بدل دی۔ انہوں نے کہا: "بیٹا! اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تمہیں مزید طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں بس ہمت چاہیے کہ تم اس بستے کو کھول کر وہ پتھر باہر پھینک دو۔"
حمزہ کو فوراً بات سمجھ آ گئی۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ پتھر دراصل اس کا غصہ اور نفرت تھی جو اس نے دل میں پال رکھی تھی۔ اس نے اسی وقت علی کو معاف کرنے کا سوچا اور بستے سے ایک پتھر نکال کر پھینک دیا۔ پھر اس نے ان تمام لوگوں کو معاف کر دیا جن سے وہ ناراض تھا۔ جیسے جیسے وہ پتھر پھینکتا گیا، اس کا بستہ ہلکا ہوتا گیا اور اس کا دل بھی۔ آخر کار جب بستہ خالی ہوا تو حمزہ نے محسوس کیا کہ وہ ہوا میں اڑ رہا ہے۔ اس دن اس نے سیکھا کہ معاف کرنا دوسروں پر احسان نہیں، بلکہ خود پر رحم کرنا ہے۔