Hazrat Umar justice scene illustration
Islamic Waqiat

Hazrat Umar (R.A) & The Justice of the Egyptian

December 24, 2025 By Versezip

The Incident in Egypt (مصر کا واقعہ)

دورِ فاروقی کا سنہری زمانہ تھا۔ عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ ان دنوں مصر (Egypt) کے گورنر مشہور صحابی حضرت عمرو بن العاص (رض) تھے، جنہوں نے اپنی ذہانت اور بہادری سے مصر کو فتح کیا تھا۔

ایک دن گورنر کے بیٹے نے ایک گھڑ دوڑ (Horse Race) کا انعقاد کیا۔ اس مقابلے میں ایک عام قبطی (مصری) نوجوان بھی اپنے گھوڑے کے ساتھ شامل ہوا۔ دونوں گھوڑے ہوا سے باتیں کر رہے تھے، لیکن فنش لائن پر قبطی کا گھوڑا بازی لے گیا۔

گورنر کے بیٹے کو اپنی شکست برداشت نہ ہوئی۔ اس نے بھرے مجمع میں، اپنے باپ کی طاقت کے نشے میں چور ہو کر، اس عام نوجوان کو کوڑے سے مارنا شروع کر دیا اور تکبر سے کہا: "لے یہ کوڑا! میں شریف زادہ (Son of Nobles) ہوں، میرا گھوڑا کیسے ہار سکتا ہے؟"

The Journey to Madinah (مدینہ کا سفر)

اس مصری نوجوان کے پاس دو راستے تھے۔ یا تو وہ اس ظلم کو طاقتور کی مرضی سمجھ کر خاموش ہو جاتا، یا انصاف کے لیے آواز اٹھاتا۔ اس نے سنا تھا کہ مدینہ میں مسلمانوں کا ایک ایسا خلیفہ بیٹھا ہے جس کی نظر میں امیر اور غریب برابر ہیں۔

وہ نوجوان مصر سے مدینہ منورہ کے طویل اور کٹھن سفر پر روانہ ہوا۔ صحرا کی گرمی اور سفر کی تھکاوٹ اس کے عزم کو نہ توڑ سکی۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو سیدھا امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رض) کے دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے اپنی قمیض ہٹا کر اپنی پیٹھ پر کوڑوں کے نیلے نشان دکھائے اور روتے ہوئے پورا واقعہ بیان کیا۔

حضرت عمر (رض) کا چہرہ انصاف کے جلال سے سرخ ہو گیا۔ آپ نے کسی وکیل یا صفائی کی مہلت دیے بغیر فوراً ایک خط لکھا اور حکم دیا: "مصر کے گورنر عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے کو فوراً مدینہ طلب کیا جائے۔"

Hazrat Umar's Verdict (حضرت عمرؓ کا فیصلہ)

جب گورنر اور ان کا بیٹا مدینہ پہنچے، تو مسجد نبوی میں عدالت لگی۔ بڑے بڑے صحابہ موجود تھے۔ حضرت عمر (رض) نے مصری نوجوان کو بلایا اور اس کے ہاتھ میں وہی کوڑا تھمایا۔

آپ نے گرج دار آواز میں فرمایا: "مار اس شریف زادے کو، جس طرح اس نے تجھے مارا تھا! اور تب تک مارتا رہ جب تک تیرا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہو جائے۔"

نوجوان نے گورنر کے بیٹے کو سب کے سامنے مارنا شروع کیا۔ مجمع دم سادھے دیکھ رہا تھا۔ جب نوجوان نے بدلہ پورا کر لیا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا: "اگر تم چاہتے تو عمرو بن العاص (گورنر) کے سر پر بھی کوڑا مارتے، کیونکہ ان کے بیٹے نے انہی کی کرسی اور طاقت کے گھمنڈ میں تم پر ہاتھ اٹھایا تھا۔"

نوجوان نے عرض کیا: "اے امیر المومنین! جس نے مجھے مارا تھا، میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ میرا دل اب مطمئن ہے۔"

A Lesson for History (تاریخ کا سبق)

اس موقع پر حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو بن العاص کی طرف رخ کیا اور وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے زیادہ وزنی ہے:

"اے عمرو! تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا؟"

یہ تھا "عدلِ فاروقی"۔ اس واقعے نے دنیا کو بتا دیا کہ اسلام کے نظام میں قانون کی حکمرانی (Rule of Law) سب سے مقدم ہے۔ چاہے مجرم کسی گورنر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، انصاف کے کٹہرے میں وہ ایک عام آدمی کے برابر ہے۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  • 1. قانون کی بالادستی (Rule of Law):
    معاشرہ تب ترقی کرتا ہے جب قانون امیر اور غریب کے لیے برابر ہو۔ حضرت عمر (رض) نے وی آئی پی کلچر (VIP Culture) کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
  • 2. تکبر کا انجام (End of Arrogance):
    شریف زادہ ہونے یا عہدے دار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کی تذلیل کریں۔ اللہ کے ہاں عزت صرف تقویٰ کی ہے۔
  • 3. فوری انصاف (Speedy Justice):
    مظلوم کو انصاف کے لیے سالوں انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت عمر (رض) نے فوری ایکشن لے کر ثابت کیا کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے۔

Leave a Comment