The Challenge of the Atheist (دہریہ کا چیلنج)
بغداد علم و حکمت کا مرکز تھا، لیکن وہاں ایک دہریہ (Atheist) آ گیا جو اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اس نے مسلمان علماء کو چیلنج کیا: "کوئی ہے جو مجھے قرآن کی آیت کے بغیر، صرف عقل اور منطق (Logic) سے ثابت کر کے دکھائے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟"
یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ وقت کے عظیم عالم، امام اعظم ابو حنیفہ (رح) نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ مناظرے (Debate) کا وقت اور جگہ طے ہو گئی۔ مقررہ وقت پر پورا شہر دریا کے کنارے جمع ہو گیا۔ دہریہ اپنی جگہ پر اکڑ کر بیٹھا تھا اور اپنی فتح کا جشن منانے کے لیے تیار تھا۔
The Imam is Late (امام کی تاخیر اور سسپنس)
وقت گزرتا گیا، سورج ڈھلنے لگا، لیکن امام ابو حنیفہ تشریف نہ لائے۔ دہریہ نے مجمع کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگایا اور کہا: "دیکھا! تمہارا امام ڈر گیا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے پاس میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں، اس لیے وہ بھاگ گیا۔"
لوگ بھی بے چین ہونے لگے۔ کیا واقعی امام ہار مان گئے؟ اچانک دور سے امام ابو حنیفہ آتے دکھائی دیے۔ وہ بالکل پرسکون تھے، چہرے پر مسکراہٹ تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
The Boat Story (بغیر کپتان کے کشتی)
دہریہ غصے میں کھڑا ہو گیا اور بولا: "اے امام! تم ڈر کر دیر سے آئے ہو؟"
امام ابو حنیفہ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا: "معاف کرنا! میں دریا کے اس پار تھا۔ وہاں کوئی کشتی نہیں تھی کہ میں ادھر آ سکتا۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ایک عجیب واقعہ ہوا۔"
دہریہ نے پوچھا: "کیا واقعہ؟"
امام نے فرمایا: "میں نے دیکھا کہ جنگل کے درخت خود بخود کٹنے لگے۔ ان کی لکڑی کے تختے بن گئے۔ پھر وہ تختے خود ہی جڑنے لگے، کیلیں خود بخود لگ گئیں اور ایک بہترین کشتی تیار ہو گئی۔ پھر وہ کشتی بغیر کسی ملاح (Captain) کے پانی میں اتری اور مجھے بٹھا کر خود بخود یہاں لے آئی۔ اسی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔"
The Logical Victory (منطق کی جیت)
یہ سن کر دہریہ زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا: "اے لوگو! دیکھو اپنے امام کو۔ یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کشتی خود بخود بن جائے اور بغیر کپتان کے چلنے لگے؟ عقل اس بات کو نہیں مانتی!"
امام ابو حنیفہ کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ آپ نے مجمع کی طرف دیکھا اور پھر دہریہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ تاریخی جملہ کہا جس نے محفل لوٹ لی:
"اے نادان! اگر ایک چھوٹی سی کشتی بغیر بنانے والے کے نہیں بن سکتی اور بغیر کپتان کے دریا میں نہیں چل سکتی، تو یہ اتنی بڑی کائنات، یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے اور یہ زمین بغیر کسی بنانے والے (اللہ) کے کیسے چل سکتے ہیں؟"
دہریہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ پوری محفل "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونج اٹھی۔ امام اعظم نے ایک لمحے میں، بغیر کسی آیت کے، صرف عقل سے اللہ کا وجود ثابت کر دیا۔