The Prophet and the Palm Trunk (حضور ﷺ اور کھجور کا تنا)
مسجد نبوی کے ابتدائی دنوں میں منبر (Pulpit) نہیں ہوتا تھا۔ مسجد کی چھت کھجور کے تنوں پر ٹکی ہوئی تھی۔ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ جمعہ کا خطبہ دیتے، تو آپ ﷺ کھجور کے ایک خشک تنے (Dry Trunk) کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے۔
یہ سلسلہ کافی عرصے تک چلتا رہا۔ وہ سوکھی لکڑی کا تنا ہر جمعہ کو نبی کریم ﷺ کا مبارک لمس محسوس کرتا اور آپ ﷺ کی قربت میں سکون پاتا۔ لیکن پھر مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! لوگ زیادہ ہو گئے ہیں، اگر ہم آپ کے لیے ایک منبر بنا دیں تو سب آپ کو دیکھ بھی سکیں گے اور آواز بھی دور تک جائے گی۔"
The Construction of the Mimbar (منبر کی تعمیر)
آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ ایک انصاری خاتون نے اپنے بڑھئی (Carpenter) غلام سے لکڑی کا تین سیڑھیوں والا ایک منبر بنوایا۔ جب منبر تیار ہو کر مسجد میں لایا گیا، تو اسے اس پرانے تنے سے کچھ فاصلے پر رکھا گیا۔
اگلا جمعہ آیا۔ مسجد نبوی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ تمام صحابہ منتظر تھے۔ نبی کریم ﷺ اپنے حجرہ مبارک سے تشریف لائے۔ لیکن آج آپ ﷺ اس پرانے تنے کے پاس نہیں رکے، بلکہ سیدھے نئے منبر کی طرف بڑھے اور اس پر تشریف فرما ہو گئے۔
The Crying of the Wood (لکڑی کا رونا)
جیسے ہی آپ ﷺ نے منبر پر خطبہ شروع کیا، اچانک مسجد میں ایک عجیب و غریب آواز گونجنے لگی۔ یہ آواز کسی انسان کی نہیں تھی، بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چھوٹا بچہ بلک بلک کر رو رہا ہو۔
[Image of palm tree]تمام صحابہ حیران رہ گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ پھر سب کی نظریں اس خشک کھجور کے تنے پر جم گئیں۔ وہ بے جان لکڑی کا تنا، فراقِ رسول ﷺ میں ایسے رو رہا تھا جیسے اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، اس کے رونے کی آواز ایسی تھی جیسے کوئی حاملہ اونٹنی (Pregnant Camel) درد سے کراہ رہی ہو۔ پورا مسجد کا ماحول غمگین ہو گیا اور صحابہ کرام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
The Prophet's Consolation (حضور ﷺ کی دلجوئی)
نبی رحمت ﷺ اس لکڑی کا درد محسوس کر گئے۔ آپ ﷺ خطبہ چھوڑ کر منبر سے نیچے اترے۔ آپ ﷺ چلتے ہوئے اس تنے کے پاس آئے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
جیسے ایک ماں اپنے روتے ہوئے بچے کو چپ کراتی ہے، آپ ﷺ نے اپنا دستِ شفقت اس تنے پر رکھا۔ آہستہ آہستہ اس کی ہچکیاں کم ہوئیں اور وہ خاموش ہو گیا۔
آپ ﷺ نے صحابہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر میں اسے گلے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک میرے فراق میں اسی طرح روتا رہتا۔"
The Choice Given to the Tree (درخت کو اختیار)
اس کے بعد آپ ﷺ نے اس تنے کو دو اختیار دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اے تنے! اگر تو چاہے تو میں تجھے اسی باغ میں واپس لگا دوں جہاں تو تھا، تو پھر سے ہرا بھرا ہو جائے گا اور پھل دے گا۔ اور اگر تو چاہے تو میں تجھے جنت میں لگا دوں، جہاں اللہ کے نیک بندے تیرا پھل کھائیں گے اور تجھے کبھی خزاں (Autumn) نہیں آئے گی۔"
اس تنے نے دنیا کی زندگی پر آخرت کو ترجیح دی۔ اس نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے جنت میں لگا دیجیے تاکہ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہ سکوں۔"
نبی کریم ﷺ نے اس کی خواہش قبول فرمائی۔ بعد میں اس تنے کو منبر کے نیچے دفن کر دیا گیا۔ آج بھی مسجد نبوی میں اس مقام کو "اسطوانہ حنانہ" (Ustuwana Hannana) یعنی "رونے والا ستون" کہا جاتا ہے۔