Bahlul Dana making sand palaces by the river Tigris
Islamic Waqiat

Bahlul Dana & The Sand Palaces (Haroon Al-Rasheed)

December 25, 2025 By Versezip

The Scene by the River Tigris (دریائے دجلہ کا کنارہ)

بغداد کا روشن دن تھا اور خلیفہ ہارون الرشید اپنی ملکہ، زبیدہ (Queen Zubaida) کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ دریا کے کنارے، ایک شخص ریت (Sand) سے چھوٹے چھوٹے گھر بنا رہا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ بہلول دانا (Bahlul Dana) تھے، جنہیں لوگ مجذوب (Wise Fool) کہتے تھے۔

ملکہ زبیدہ ان کے پاس رک گئیں اور بڑے تجسس سے پوچھا: "بہلول! یہ تم کیا کر رہے ہو؟" بہلول نے ریت کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا: "میں جنت کے محلات (Palaces of Paradise) بنا رہا ہوں۔"

The Deal of Faith (ایمان کا سودا)

ہارون الرشید یہ سن کر ہنس دیے اور اسے ایک دیوانے کی بڑ سمجھ کر آگے بڑھ گئے۔ لیکن ملکہ زبیدہ وہیں کھڑی رہیں۔ انہوں نے مسکرا کر پوچھا: "بہلول! کیا تم یہ محل بیچتے ہو؟" بہلول نے سر ہلایا اور کہا: "ہاں! بیچتا ہوں۔"

ملکہ نے پوچھا: "قیمت کیا ہے؟" بہلول نے جواب دیا: "صرف ایک دینار (1 Dinar)۔" ملکہ نے اپنی جیب سے ایک دینار نکالا اور بہلول کو دے دیا۔ بہلول نے وہ دینار لیا اور دریا میں پھینک دیا اور کہا: "جاؤ! تمہارا سودا ہو گیا۔"

The Caliph's Dream (بادشاہ کا خواب)

اسی رات ہارون الرشید نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ جنت میں ہے اور وہاں ایک بہت ہی عالی شان محل ہے جو ہیرے جواہرات سے بنا ہوا ہے۔ اس کی خوبصورتی دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ محل کے دروازے پر سنہری حروف میں لکھا تھا: "یہ محل زبیدہ کا ہے۔"

ہارون الرشید آگے بڑھا اور دربان سے کہا: "میں زبیدہ کا شوہر ہوں، مجھے اندر جانے دو۔" لیکن دربان نے اسے روک دیا اور کہا: "یہ محل زبیدہ کا ہے، تمہارا نہیں، کیونکہ اس نے اسے خریدا ہے اور تم نے نہیں۔"

The Regret and The Second Deal (پچھتاوا اور دوسرا سودا)

بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ وہ پسینے میں شرابور تھا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ فجر کی نماز پڑھتے ہی وہ بھاگا بھاگا دریا کے کنارے پہنچا۔ وہاں بہلول دانا اب بھی ریت کے گھر بنا رہے تھے۔

ہارون الرشید نے کہا: "بہلول! مجھے بھی ایک محل خریدنا ہے۔" بہلول نے بادشاہ کی طرف دیکھے بغیر کہا: "ہاں! مل جائے گا۔"

ہارون نے خوش ہو کر پوچھا: "قیمت کیا ہے؟" بہلول نے جواب دیا: "پوری دنیا کی بادشاہت (The Whole Kingdom)۔"

The Wisdom of Bahlul (بہلول کی حکمت)

ہارون الرشید حیران رہ گیا اور بولا: "کل تو تم نے زبیدہ کو صرف ایک دینار میں محل بیچا تھا، آج اتنی بڑی قیمت کیوں؟"

بہلول دانا ہنسے اور وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی حکمت کی کتابوں میں سنہری حروف میں لکھا ہے:

"ہارون! زبیدہ نے 'بن دیکھے' (Unseen) خریدا تھا، اس لیے اسے سستا ملا۔ تم 'دیکھ کر' (After Seeing) سودا کر رہے ہو، اور دیکھی ہوئی چیز کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔"

یہ سن کر ہارون الرشید زار و قطار رونے لگے۔ انہیں سمجھ آ گیا کہ ایمان کا اصل امتحان غیب پر یقین (Belief in Unseen) ہے، معجزہ دیکھ کر تو فرعون بھی ایمان لانے کو تیار ہو گیا تھا۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  • 1. غیب پر ایمان (Belief in the Unseen):
    اللہ کی رحمت اور جنت پر یقین رکھنا ہی اصل ایمان ہے۔ جو لوگ دنیا میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں بغیر بدلہ دیکھے، ان کا مقام بہت اونچا ہے۔
  • 2. صدقہ کی طاقت (Power of Charity):
    ملکہ زبیدہ نے ایک پاگل سمجھے جانے والے شخص کی دلجوئی کے لیے ایک دینار دیا، لیکن اللہ نے اسے اتنا پسند کیا کہ جنت میں محل عطا کر دیا۔ نیت کا اخلاص سب سے اہم ہے۔
  • 3. دنیا کی حقیقت:
    بادشاہ ہو یا فقیر، اللہ کے ہاں صرف نیک اعمال کی قدر ہے۔ ہارون الرشید کی بادشاہت اسے وہ محل نہ دلا سکی جو زبیدہ کے ایک دینار نے دلا دیا۔

Leave a Comment