The Boy Who Sold His Shadow Illustration
Stories

The Boy Who Sold His Shadow

December 20, 2025 By Versezip

سمیر ایک ایسا لڑکا تھا جسے ویڈیو گیمز کا جنون تھا۔ اس کے دوستوں کے پاس جدید ترین "Ultra Console 5000" تھا، لیکن سمیر کے والدین اسے اتنا مہنگا تحفہ نہیں دلا سکتے تھے۔ سمیر ہر وقت اسی سوچ میں رہتا کہ کاش! میرے پاس بھی وہ کنسول ہوتا تو میں دنیا کا سب سے خوش قسمت لڑکا ہوتا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی یہ خواہش اسے ایک خطرناک سودے کی طرف لے جائے گی۔

ایک دن اسکول سے واپسی پر، سمیر نے گلی کے کونے میں ایک پرانی اور عجیب سی دکان دیکھی۔ اس پر لکھا تھا "جادوئی سوداگر"۔ سمیر تجسس میں اندر چلا گیا۔ دکان کے اندر اندھیرا تھا اور عجیب سی خوشبو تھی۔ کاؤنٹر کے پیچھے ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا جس کی آنکھیں بلی کی طرح چمک رہی تھیں۔ سمیر نے ڈرتے ڈرتے پوچھا: "کیا آپ کے پاس الٹرا کنسول 5000 ہے؟" بوڑھے نے مسکرا کر ایک نیا چمکدار باکس نکالا اور کہا: "ہاں! لیکن اس کی قیمت پیسے نہیں ہیں۔"

"میں تم سے تمہارا سایہ (Shadow) مانگتا ہوں۔ بدلے میں یہ گیم تمہارا۔ ویسے بھی سایہ کس کام آتا ہے؟ بس زمین پر کالا دھبہ ہی تو ہے۔"

سمیر نے سوچا، واقعی سایہ تو کسی کام کا نہیں ہوتا۔ اس نے فوراً سودا منظور کر لیا۔ بوڑھے نے ایک قینچی سے سمیر کا سایہ زمین سے کاٹ کر الگ کیا اور ایک بوتل میں بند کر دیا۔ سمیر خوشی خوشی گیم لے کر گھر بھاگا۔ وہ بہت خوش تھا، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔

اگلے دن سمیر باہر کرکٹ کھیلنے نکلا۔ جیسے ہی وہ دھوپ میں آیا، اسے ایسا لگا جیسے اس کے جسم پر آگ لگ گئی ہو۔ اس کا جسم شدید گرم ہونے لگا کیونکہ اس کا سایہ، جو اسے دھوپ کی شدت سے بچاتا تھا، اب غائب تھا۔ وہ چیختا ہوا واپس سائے میں بھاگا۔ اس کے دوستوں نے دیکھا کہ سمیر کا زمین پر کوئی سایہ نہیں ہے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور اسے "بھوت" کہنے لگے۔

"سمیر اکیلا رہ گیا۔ نہ وہ دھوپ میں جا سکتا تھا، نہ دوستوں کے ساتھ کھیل سکتا تھا۔ اس کا قیمتی ویڈیو گیم اب اسے زہر لگ رہا تھا۔"

سمیر کو احساس ہوا کہ صحت اور قدرتی نعمتیں (جیسے سایہ) پیسوں اور گیمز سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ وہ روتا ہوا واپس اسی دکان پر گیا۔ اس نے بوڑھے آدمی کے قدموں میں وہ گیم پھینک دی اور رو کر کہا: "مجھے میرا سایہ واپس کر دو، مجھے یہ گیم نہیں چاہیے!" بوڑھے نے مسکرا کر سایہ واپس کر دیا اور کہا: "یاد رکھنا بیٹا! اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔"

اس کہانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  • 1. لالچ بری بلا ہے (Greed):
    لالچ میں آکر انسان اکثر وہ چیزیں کھو دیتا ہے جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔
  • 2. صحت سب سے بڑی دولت ہے (Health is Wealth):
    دنیا کا مہنگا ترین کھلونا بھی آپ کی صحت اور سکون کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
  • 3. قدرتی نعمتوں کی قدر (Gratitude):
    اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت (جیسے سایہ، دھوپ، ہوا) کا ایک مقصد ہے، انہیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
Tags: Stories

Leave a Comment