شیرو جنگل کا بادشاہ تو تھا، لیکن وہ ایک "ظالم بادشاہ" کے طور پر مشہور تھا۔ وہ اپنی طاقت اور حکمرانی صرف اپنی دھاڑ (Roar) کے ذریعے قائم رکھتا تھا۔ جب وہ جنگل سے گزرتا تو درختوں کے پتے لرز جاتے اور چھوٹے جانور ڈر کر بلوں میں چھپ جاتے۔ شیرو کو لگتا تھا کہ یہی "عزت" ہے، حالانکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جانور اس کی عزت نہیں کرتے تھے، بلکہ اس سے ڈرتے تھے اور اس کے پیچھے اس کی برائی کرتے تھے۔ وہ ہر چھوٹی بات پر چلاتا، چیختا اور اپنی دھاڑ سے سب کو خاموش کروا دیتا تھا۔
ایک صبح، جنگل میں عجیب سی خاموشی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، بندر اچھل رہے تھے، لیکن وہ خوفناک دھاڑ غائب تھی جو ہر روز سورج نکلتے ہی سنائی دیتی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلی رات شیرو نے ایک ہاتھی سے بحث کرتے ہوئے اتنا زور سے دھاڑا تھا کہ اس کا گلا بری طرح بیٹھ گیا۔ صبح جب وہ جاگا اور اپنی عادت کے مطابق پانی لانے والے خرگوش پر چیخنے کی کوشش کی، تو اس کے منہ سے دھاڑ کے بجائے ایک عجیب سی "چوں" کی آواز نکلی۔ شیرو کو اپنی آواز پر یقین نہیں آیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی، مگر اس بار بھی کوئی آواز نہ نکلی۔ جنگل کا بادشاہ، شیرو، اپنی آواز کھو چکا تھا۔
شیرو پریشان ہو کر غار سے باہر نکلا۔ اسے پیاس لگی تھی، اس لیے وہ ندی کی طرف گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ہرن اور زیبرا آپس میں بری طرح لڑ رہے تھے۔ ہرن کہہ رہا تھا کہ یہ ندی کا کنارہ اس کا ہے، اور زیبرا کہہ رہا تھا کہ وہ یہاں پہلے آیا تھا۔ اگر شیرو کی آواز ہوتی، تو وہ ایک زوردار دھاڑ مارتا اور دونوں ڈر کر بھاگ جاتے۔ لیکن آج وہ مجبور تھا۔ وہ خاموشی سے ایک چٹان کے پیچھے بیٹھ گیا اور پہلی بار اس نے کچھ ایسا کیا جو اس نے زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا — اس نے "سنا"۔
شیرو نے غور سے سنا کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ اسے پتہ چلا کہ زیبرا کا بچہ بیمار ہے اور اسے صاف پانی چاہیے، جبکہ ہرن کی ٹانگ زخمی ہے اور وہ دوسری طرف نہیں جا سکتا۔ شیرو کو احساس ہوا کہ مسئلہ "ضد" کا نہیں، "مجبوری" کا ہے۔ ہمیشہ وہ اپنی دھاڑ سے مسئلے کو دبا دیتا تھا، حل نہیں کرتا تھا۔ اس نے خاموشی سے ایک بڑی ٹہنی اٹھائی اور اسے ندی کے بیچ میں اس طرح رکھا کہ پانی کا بہاؤ دو حصوں میں بٹ گیا۔ اب دونوں جانوروں کے لیے صاف پانی موجود تھا۔
زیبرا اور ہرن نے مڑ کر دیکھا تو شیرو وہاں کھڑا تھا۔ وہ ڈر گئے، لیکن شیرو نے دھاڑنے کے بجائے صرف ہلکا سا سر ہلایا اور مسکرا دیا۔ جانور حیران رہ گئے! "شیرو نے ہماری بات سنی اور ہماری مدد کی؟ وہ بھی بنا چیخے؟"
اگلے چند دنوں تک شیرو خاموش رہا۔ اس خاموشی نے اسے بدل کر رکھ دیا۔ اب وہ جانوروں کی باتیں سنتا، ان کے مسائل سمجھتا اور اپنی طاقت کو ڈرانے کے بجائے مدد کرنے میں استعمال کرتا۔ بندر اب اسے دیکھ کر بھاگتے نہیں تھے، بلکہ اس کے پاس آ کر بیٹھ جاتے۔ ہاتھی اسے سلام کرتے۔ شیرو کو پہلی بار احساس ہوا کہ "ڈر" اور "عزت" میں کیا فرق ہے۔
کچھ دنوں بعد، شیرو کا گلا ٹھیک ہو گیا۔ اس کی آواز واپس آ گئی۔ صبح سویرے وہ اپنی غار سے نکلا۔ تمام جانور ڈر گئے کہ اب پرانا شیرو واپس آ جائے گا اور پھر سے دھاڑنا شروع کر دے گا۔ شیرو نے ایک لمبی سانس لی، منہ کھولا، لیکن دھاڑا نہیں۔ اس نے ایک بہت ہی نرم اور باوقار لہجے میں کہا: "صبح بخیر دوستو!"۔ پورا جنگل خوشی سے جھوم اٹھا۔ اس دن شیرو کو معلوم ہوا کہ بادشاہ کی اصل طاقت اس کی آواز کی بلندی میں نہیں، بلکہ اس کے کردار کی نرمی میں ہوتی ہے۔