Hazrat Khadija Artistic Representation
Biographies

Hazrat Khadija (R.A): The Queen of Arabs & First Believer

December 19, 2025 By Versezip

Who Was Hazrat Khadija (R.A)?

حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) (555–619 عیسوی) وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں تاریخ "ملیکۃ العرب" (عرب کی ملکہ) اور "طاہرہ" (پاکیزہ خاتون) کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اسلام سے قبل بھی آپ کا مقام مکہ میں اتنا بلند تھا کہ جب آپ کی سواری گزرتی تو لوگ احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ آپ کے ارد گرد سینکڑوں کنیزیں ہوتی تھیں، مگر آپ کا چہرہ ہمیشہ باحیا اور پردے میں رہتا تھا۔ یہ وہ واحد خاتون ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (ع) کے ذریعے سلام بھیجا تھا۔

The World's First Trade 'Motorway'

حضرت خدیجہ (رض) کی دولت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے پاس 2 لاکھ اونٹ تھے جو تجارت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب آپ کا تجارتی قافلہ مکہ سے نکلتا تھا، تو پہلا اونٹ یمن میں داخل ہو رہا ہوتا تھا اور آخری اونٹ مکہ سے نکل رہا ہوتا تھا۔

ایک تجارتی چکر میں آپ کا منافع تقریباً 20 ہزار کلو سونا (2 لاکھ دینار) تک ہوتا تھا۔ مصر کے شہر "الخید" میں آپ کی 2 ہزار دکانیں اور گودام تھے۔

آپ نے دنیا کا پہلا "موٹر وے سسٹم" (تجارتی شاہراہ) قائم کیا۔ مکہ سے یمن تک 1800 میل لمبا راستہ تھا جسے آپ نے محفوظ بنایا۔ آپ نے جگہ جگہ سرائے (Inns) بنوائے، پانی کے کنویں کھدوائے اور سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے تاکہ کوئی تاجر لٹ نہ سکے۔

The Incident of Theft & Meeting Abu Talib (چوری کا واقعہ اور ابوطالب سے ملاقات)

ایک بار آپ کے ملازمین نے شکایت کی کہ مکہ کی گلیوں سے سامان چوری ہو رہا ہے۔ حضرت خدیجہ (رض) خود چل کر مکہ کے سردار حضرت ابو طالب (رض) کے پاس گئیں۔ حضرت ابو طالب نے مکہ کے تمام سرداروں کو کھانے پر بلایا اور فرمایا: "خدیجہ کا مال چوری ہونا ہماری بے عزتی ہے۔" پھر انہوں نے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ مکہ کے وہی چور، جو مال لوٹتے تھے، آپ کے مال کے محافظ بن گئے۔

The Proposal & Marriage (نکاح کی پیشکش)

نبی کریم ﷺ آپ کے غلام میسرہ کے ساتھ شام کے سفر پر گئے۔ میسرہ نے واپسی پر بتایا کہ کیسے بادل آپ ﷺ پر سایہ کرتے تھے اور درخت جھک کر تعظیم کرتے تھے۔ یہ سن کر اور آپ ﷺ کی دیانت دیکھ کر حضرت خدیجہ (رض) نے اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعے نکاح کا پیغام بھیجا۔ نکاح کا خطبہ حضرت ابو طالب نے پڑھا جس کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے ہوا۔

Salam from Allah (Gabriel's Visit) (اللہ کی طرف سے سلام)

ایک مرتبہ جبرائیل (ع) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا: "یا رسول اللہ! خدیجہ ایک برتن لائیں گی جس میں کھانا یا پانی ہے۔ جب وہ آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں، اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی خوشخبری سنا دیں جہاں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تھکن۔"

یہ وہ عظیم مقام ہے جو تاریخ میں کسی اور خاتون کو نہیں ملا کہ رب کائنات نے خود نام لے کر سلام بھیجا ہو۔

Sacrifice of Wealth (مال کی قربانی)

شادی کے بعد، وہ خاتون جس کے خیموں کی رسیوں میں سونے کے تار لگے ہوتے تھے، انہوں نے سب کچھ اسلام پر لٹا دیا۔ شعب ابی طالب کے 3 سالہ بائیکاٹ کے دوران، جب مسلمان پتے کھانے پر مجبور تھے، حضرت خدیجہ (رض) نے اپنی ساری دولت اناج خریدنے میں خرچ کر دی۔

روایت ہے کہ آپ سونے کا ایک ایسا ڈھیر لگاتی تھیں جو اتنا اونچا ہوتا تھا کہ اس کے پیچھے کھڑا اونٹ نظر نہیں آتا تھا، اور اعلان کرتیں: "جو محمد (ﷺ) کا کلمہ پڑھ لے، وہ اس ڈھیر سے جتنا چاہے لے جائے۔"

The Incident of the Necklace (Zainab's Gift) (ہار کا واقعہ)

حضرت خدیجہ (رض) کے انتقال کے سالوں بعد، جنگ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مکہ سے فدیہ آیا۔ آپ کی بیٹی حضرت زینب (رض) نے اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے وہی ہار بھیجا جو حضرت خدیجہ (رض) نے انہیں شادی پر تحفے میں دیا تھا۔

جب نبی کریم ﷺ کی نظر اس ہار پر پڑی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ شدید آبدیدہ ہو گئے۔ صحابہ کرام (رض) بھی رونے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم چاہو تو زینب کا قیدی بھی چھوڑ دو اور یہ ہار بھی واپس کر دو، یہ خدیجہ کی نشانی ہے۔" صحابہ نے فوراً تعمیل کی۔ یہ وہ محبت تھی جو نبی کریم ﷺ کو حضرت خدیجہ سے تھی۔

حضرت خدیجہ (رض) کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  • 1. رزق حلال کی طاقت:
    آپ کی دولت حلال تجارت سے آئی تھی، اسی لیے وہ دینِ اسلام کی بنیاد بنی۔
  • 2. مشکل میں ساتھ نبھانا:
    جب پورا مکہ نبی ﷺ کے خلاف تھا، تو ایک بیوی (خدیجہ) دیوار بن کر اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی رہیں۔
  • 3. عورت کی خودمختاری:
    آپ نے ثابت کیا کہ ایک خاتون بزنس ایمپائر کھڑی کر سکتی ہے اور اسے اپنی مرضی سے نیک مقصد پر خرچ بھی کر سکتی ہے۔

Leave a Comment