نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور فرمان ہے: "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذاتِ مبارکہ محض روحانیت اور بہادری کا ہی استعارہ نہیں تھی، بلکہ آپ (رض) دنیاوی علوم، پیچیدہ منطق (Logic)، اور حساب دانی (Mathematics) کے بھی ایسے ماہر تھے کہ آج کے دور کے بڑے بڑے حساب دان آپ کی ذہانت پر عش عش کر اٹھتے ہیں۔
جب بھی کسی کے پاس کوئی ایسا الجھا ہوا مسئلہ آتا جسے سلجھانا ناممکن دکھائی دیتا، تو وہ سیدھا شیرِ خدا، حضرت علی (رض) کے دربار میں حاضر ہوتا۔ ایسا ہی ایک انتہائی پیچیدہ اور مشہور واقعہ 17 اونٹوں کی تقسیم کا ہے، جس نے اس وقت کے تمام لوگوں کو شدید کشمکش اور حیرانی میں ڈال دیا تھا۔
وراثت کا عجیب و غریب معمہ
عرب کے ایک قبیلے میں ایک بوڑھا شخص انتقال کر گیا۔ اس نے اپنے پیچھے تین بیٹے اور جائیداد کے نام پر صرف 17 اونٹ چھوڑے۔ اس دور میں اونٹ انتہائی قیمتی سمجھے جاتے تھے اور ایک اونٹ کو کاٹ کر یا ذبح کر کے تقسیم کرنے کا مطلب اس کی ساری قیمت اور افادیت کو ختم کر دینا تھا۔ بوڑھے باپ نے مرنے سے پہلے جو وصیت لکھی تھی، اس نے تینوں بھائیوں کو ایک ایسی الجھن میں ڈال دیا جس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔
وصیت کچھ یوں تھی:
۱۔ میرے سب سے بڑے بیٹے کو کل اونٹوں کا آدھا (1/2) حصہ دیا جائے۔
۲۔ میرے درمیانے بیٹے کو کل اونٹوں کا تیسرا (1/3) حصہ دیا جائے۔
۳۔ میرے سب سے چھوٹے بیٹے کو کل اونٹوں کا نواں (1/9) حصہ دیا جائے۔
تینوں بھائی والد کی وفات کے غم کے ساتھ ساتھ اس وصیت کی وجہ سے بھی شدید پریشان ہو گئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ 17 ایک مفرد عدد (Prime Number) ہے۔ یہ ایک ایسا ہندسہ ہے جو اپنے اور ایک کے علاوہ کسی بھی دوسرے ہندسے پر پورا تقسیم نہیں ہوتا۔
بھائیوں نے حساب لگایا: 17 کا آدھا ساڑھے آٹھ (8.5) اونٹ بنتا ہے۔ 17 کا تیسرا حصہ نکالنا بھی ناممکن تھا، اور نواں حصہ نکالنا تو اور بھی مشکل۔ ظاہر ہے زندہ اونٹوں کو کاٹ کر آدھا یا تہائی تو نہیں کیا جا سکتا تھا!
دانشوروں کی بے بسی اور جھگڑے کا آغاز
یہ مسئلہ اتنا الجھ گیا کہ بھائیوں کے درمیان بحث و تکرار اور جھگڑا شروع ہو گیا۔ وہ اپنے قبیلے کے بزرگوں، قاضیوں اور اس وقت کے مشہور حساب دانوں کے پاس گئے۔ سب نے اپنا اپنا دماغ لڑایا، ریت پر لکیریں کھینچ کر حساب کیے، لیکن کوئی بھی اس معمے کو سلجھا نہ سکا۔ ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ "یہ وصیت ناممکن ہے، جب تک کم از کم ایک اونٹ ذبح نہ کیا جائے، یہ تقسیم ہو ہی نہیں سکتی۔"
آخر کار، جب ہر طرف سے مایوسی ہو گئی، تو کسی نے مشورہ دیا کہ مدینہ چلتے ہیں، وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود ہیں، وہی اس ناقابلِ حل مسئلے کا کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔
علم کے دروازے پر آمد اور شاندار حل
تینوں بھائی اپنے 17 اونٹ ہانکتے ہوئے حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا۔ حضرت علی (رض) نے پوری بات نہایت تحمل سے سنی۔ آپ (رض) کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آئی۔ آپ نے فرمایا، "اس بات پر جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا حل تو بہت ہی آسان ہے۔"
حضرت علی (رض) کا اپنا ایک ذاتی اونٹ قریب ہی بندھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ میں اپنا یہ ایک اونٹ تمہارے 17 اونٹوں میں شامل کر دوں، اور پھر تمہارے والد کی وصیت کے مطابق تقسیم کروں؟"
تینوں بھائی حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ بھلا کون نہیں چاہے گا کہ وراثت میں مال کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے۔ انہوں نے فوراً ہامی بھر لی کہ ہمیں منظور ہے۔
اب 17 اونٹوں میں حضرت علی (رض) کا 1 اونٹ ملانے سے کل تعداد 18 ہو گئی۔
تقسیم کا کمال: حساب دانی کا معجزہ
اب حضرت علی (رض) نے وصیت کے مطابق کمال مہارت سے تقسیم شروع کی:
-
بڑے بیٹے کا حصہ (1/2): حضرت علی (رض) نے بڑے بیٹے کو بلایا اور فرمایا کہ 18 کا آدھا کتنا ہوتا ہے؟ اس نے کہا 9۔ آپ نے اسے 9 اونٹ دے دیے۔ (17 کا آدھا 8.5 بنتا تھا، اسے 9 مل گئے، وہ بے حد خوش ہو گیا)۔
-
درمیانے بیٹے کا حصہ (1/3): آپ نے درمیانے بیٹے سے فرمایا کہ تمہارا حصہ تہائی ہے۔ 18 کا تیسرا حصہ 6 بنتا ہے۔ آپ نے اسے 6 اونٹ دے دیے۔ (اسے 5.6 ملنے تھے، 6 ملنے پر وہ بھی بہت خوش ہوا)۔
-
چھوٹے بیٹے کا حصہ (1/9): آپ نے چھوٹے بیٹے کو بلایا اور فرمایا، 18 کا نواں حصہ 2 ہوتا ہے۔ تم یہ 2 اونٹ لے لو۔ (اسے 1.8 ملنا تھا، اسے بھی 2 پورے مل گئے)۔
تقسیم مکمل ہو چکی تھی۔ تینوں بھائی خوشی سے نہال تھے کیونکہ تینوں کو ان کے اصل حصے سے کچھ زیادہ ہی مل گیا تھا۔ اب ذرا ان تقسیم شدہ اونٹوں کو جمع کریں:
9 (بڑا) + 6 (درمیانہ) + 2 (چھوٹا) = 17 اونٹ
سب کے حصے پورے ہونے کے بعد بھی میدان میں ایک اونٹ بچ گیا تھا۔ وہ کون سا اونٹ تھا؟ جی ہاں! وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنا اونٹ تھا جو انہوں نے تقسیم کو ممکن بنانے کے لیے عارضی طور پر شامل کیا تھا۔ حضرت علی (رض) نے مسکراتے ہوئے اپنا اونٹ پکڑا، اس پر سوار ہوئے اور واپس تشریف لے گئے۔
تینوں بھائی، قبیلے کے لوگ اور تمام حساب دان حیرت کے سمندر میں ڈوبے ہوئے اس عظیم ہستی کو جاتا دیکھ رہے تھے۔ یہ ہے وہ لاجواب ریاضی، گہری منطق اور کمال درجے کی ذہانت، جس نے نہ صرف ایک ناممکن مسئلے کو ممکن بنا دیا، بلکہ خون کے رشتوں کو بھی ٹوٹنے سے بچا لیا۔
The Moral of the Story (نتیجہ):
- علم اور دانشمندی دنیا کی وہ واحد دولت ہے جو الجھے ہوئے رشتوں اور ناممکن مسائل کو چٹکیوں میں سلجھا دیتی ہے۔ حضرت علی (رض) کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ انصاف اور حکمت سے ہر مشکل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
- True wisdom and knowledge can resolve the most impossible conflicts seamlessly. Hazrat Ali's logic proves that with fairness and intelligence, every complex problem has a peaceful solution.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.