اسلامی تاریخ کے صفحات جب بھی شجاعت، بہادری اور جنگی حکمتِ عملی کے باب کھولتے ہیں، تو ایک نام سورج کی طرح چمکتا ہوا نظر آتا ہے—حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔ یہ وہ عظیم اور بے مثال سپہ سالار تھے جنہیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "سیف اللہ" (اللہ کی تلوار) کا لقب عطا فرمایا۔ ان کی تلوار نے روم اور فارس جیسی سپر پاورز کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سو سے زائد چھوٹی بڑی جنگیں لڑیں اور دنیا کی تاریخ میں یہ واحد جرنیل ہیں جنہوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں ہاری۔
ایک سچے مجاہد کا خواب اور حسرت
حضرت خالد بن ولید (رض) کی زندگی کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی خواب تھا—میدانِ جنگ میں شہادت۔ وہ ہمیشہ اگلی صفوں میں لڑتے، سب سے پہلے دشمن پر حملہ آور ہوتے، اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارتے۔ انہوں نے اپنا پورا جسم اسلام کی خاطر زخموں سے چھلنی کروا لیا تھا، لیکن موت جیسے ان سے کتراتی تھی۔ جب ان کی عمر ڈھل گئی اور وہ شام کے شہر حمص (Homs) میں اپنے بسترِ مرگ پر تھے، تو ایک ایسا جذباتی اور رلا دینے والا منظر پیش آیا جو رہتی دنیا تک ہر مجاہد کے لیے ایک سبق ہے۔
بسترِ مرگ پر بہنے والے آنسو
آخری وقت قریب تھا۔ وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ ان سے ملنے ان کے ایک دیرینہ دوست اور ساتھی آئے۔ حضرت خالد (رض) نے اپنے دوست کی طرف دیکھا اور اپنی قمیض کا بٹن کھولتے ہوئے فرمایا: "ذرا میرے جسم کو دیکھو۔ کیا میرے جسم پر ایک بالشت بھر کی بھی ایسی جگہ ہے جہاں کسی تلوار، نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو؟"
دوست نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا، "اے ابو سلیمان! واللہ، آپ کے جسم پر زخموں کے نشانات گنے نہیں جا سکتے۔"
یہ سن کر اس عظیم فاتح کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور وہ تاریخی جملہ کہا جس نے تاریخ کو رلا دیا:
"میں نے اپنی پوری زندگی میدانِ جنگ میں گزاری، سینکڑوں جنگیں لڑیں تاکہ میں میدانِ کارزار میں اللہ کی راہ میں شہید ہو سکوں۔ لیکن آج... آج میں ایک بوڑھے اونٹ کی طرح اپنے بستر پر مر رہا ہوں۔ دنیا کے بزدلوں اور نامردوں کو میرا یہ پیغام دے دو کہ اگر موت میدانِ جنگ میں لکھی ہوتی، تو خالد آج بستر پر نہ مر رہا ہوتا۔ بزدلوں کی آنکھیں کبھی نہ سوئیں!"
سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کی تقدیر کا راز
حضرت خالد (رض) کی اس شدید حسرت اور دکھ کو دیکھ کر ان کے دوست نے ایک ایسی بات کہی جس نے خالد بن ولید (رض) کے مضطرب دل کو سکون بخش دیا۔ ان کے دوست نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
"اے خالد! کیا آپ بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو 'سیف اللہ' (اللہ کی تلوار) کا لقب دیا تھا؟"
حضرت خالد (رض) نے اثبات میں سر ہلایا۔ دوست نے مسکرا کر کہا:
"تو پھر آپ خود بتائیے کہ کیا یہ ممکن تھا کہ کفار اور کافروں کی کوئی تلوار 'اللہ کی تلوار' کو میدانِ جنگ میں توڑ دیتی؟ آپ کی موت بستر پر اس لیے لکھی گئی تاکہ دنیا جان لے کہ اللہ کی تلوار کو کوئی انسان، کوئی فوج، کوئی طاقت میدان میں شکست نہیں دے سکتی۔ آپ کبھی میدان میں نہیں مر سکتے تھے، کیونکہ اللہ اپنی تلوار کو دشمنوں کے ہاتھوں ٹوٹنے نہیں دیتا!"
یہ سننا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ایک طمانیت اور سکون کا نور پھیل گیا۔ ان کے آنسو تھم گئے، ان کا دل اللہ کی رضا پر راضی ہو گیا، اور انہوں نے مسکراتے ہوئے، کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اپنی جان اللہ کے سپرد کر دی۔
"موت کا ایک دن معین ہے۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ مضبوط قلعوں اور بستروں پر بھی آ جاتی ہے، اور جب وقت نہیں ہوتا تو ہزاروں تلواروں کے سائے میں بھی بال بیکا نہیں ہوتا۔"
The Moral of the Waqia (سبق):
- زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ موت سے ڈر کر بزدل نہ بنو، کیونکہ اگر موت لکھی ہے تو بستر پر بھی آئے گی، اور اگر نہیں لکھی تو میدانِ جنگ بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تقدیر پر کامل یقین رکھو۔
- Life and death are entirely in the hands of Allah. Do not fear death, for if it is destined, it will find you on your bed. Have absolute faith in destiny (Taqdeer).
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.