An ancient well in Madinah representing Bir-e-Rumah

The Generosity of Hazrat Usman RA (سخاوتِ عثمان غنی - بئرِ رومہ)

By VerseZip | Mar 04, 2026

اسلامی تاریخ میں جب بھی سخاوت، ایثار اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ذکر آتا ہے، تو سب سے پہلا نام جو ذہن میں ابھرتا ہے، وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ کی سخاوت صرف دولت لٹانے تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ اللہ کے ساتھ ایک ایسی سچی تجارت تھی جس میں دنیا کا کوئی بھی منافع جنت کے مقابلے میں حقیر تھا۔ آج ہم جس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں، وہ مدینہ منورہ کے اس مبارک دور کی یاد دلاتا ہے جب مسلمانوں نے ہجرت کی تھی اور انہیں پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔

ہجرتِ مدینہ اور پانی کا بحران

جب مسلمان مکہ کے ظلم و ستم سے بچ کر ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو ان کے لیے ایک نئی آزمائش منتظر تھی۔ مکہ کا پانی زمزم کی وجہ سے میٹھا اور وافر تھا، لیکن مدینہ کے اکثر کنوؤں کا پانی کڑوا یا کھارا تھا۔ اس وقت پورے مدینہ میں میٹھے پانی کا صرف ایک ہی کنواں تھا، جس کا نام "بئرِ رومہ" (رومہ کا کنواں) تھا۔

بدقسمتی سے، یہ کنواں ایک یہودی (بعض روایات کے مطابق غفار قبیلے کے ایک شخص) کی ملکیت تھا۔ یہ شخص نہایت لالچی اور سنگدل تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کو میٹھے پانی کی شدید ضرورت ہے، اس لیے وہ پانی کو بہت مہنگے داموں بیچنے لگا۔ یہاں تک کہ غریب مہاجرین صحابہ کرام کے لیے ایک مشکیزہ پانی خریدنا بھی محال ہو گیا۔ صحابہ کرام بھوک برداشت کر لیتے تھے، لیکن پیاس کی شدت سے نڈھال ہو رہے تھے۔

نبی کریم ﷺ کا عظیم الشان اعلان

مسلمانوں کی یہ تکلیف دیکھ کر رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بے حد رنجیدہ ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو مسجدِ نبوی میں جمع کیا اور ایک ایسا اعلان فرمایا جس نے صحابہ کے دلوں میں جنت کی تڑپ پیدا کر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"کون ہے جو بئرِ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ جو شخص ایسا کرے گا، اس کے لیے جنت میں اس سے کہیں بہتر اور میٹھے پانی کا چشمہ ہوگا۔"

یہ سننا تھا کہ صحابہ کرام میں ایک عجیب سی بے چینی اور جذبہ پیدا ہو گیا۔ لیکن اس کنویں کی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ عام صحابی اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ اس محفل میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جیسے ہی آپ کے کانوں میں نبی کریم ﷺ کی یہ آواز پڑی، آپ نے فیصلہ کر لیا کہ جنت کا یہ سودا اب کسی اور کے ہاتھ نہیں جانے دیں گے۔

جنت کا سودا اور یہودی کی مکاری

حضرت عثمان غنی (رض) سیدھے اس یہودی کے پاس گئے اور فرمایا کہ میں یہ کنواں خریدنا چاہتا ہوں۔ یہودی جانتا تھا کہ عثمان غنی مدینہ کے سب سے امیر تاجروں میں سے ہیں۔ اس نے کنواں بیچنے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ وہ روزانہ پانی بیچ کر بھاری منافع کما رہا تھا۔

لیکن حضرت عثمان (رض) بھی اللہ کے رسول کا وعدہ سچ کرنے کا ارادہ لے کر آئے تھے۔ آپ نے اپنی تجارتی حکمتِ عملی استعمال کی اور فرمایا: "اگر تم پورا کنواں نہیں بیچنا چاہتے، تو اس کا آدھا حصہ مجھے بیچ دو۔ ایک دن پانی تم فروخت کرنا، اور ایک دن میں اس کا مالک ہوں گا۔" لالچی یہودی نے سوچا کہ اسے بھاری رقم بھی مل جائے گی اور اس کی آمدنی کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔ اس نے بارہ ہزار درہم (12,000 Dirhams) کی بھاری رقم کے عوض کنویں کا آدھا حصہ حضرت عثمان (رض) کو بیچ دیا۔

عثمان غنی (رض) کی حکمت اور مسلمانوں کی راحت

اس معاہدے کے بعد، جس دن حضرت عثمان (رض) کی باری ہوتی، آپ منادی کروا دیتے کہ "آج بئرِ رومہ کا پانی سب کے لیے مفت ہے، جس کا جتنا دل چاہے بھر لے۔" مدینہ کے تمام مسلمان، بلکہ خود یہودی کے اپنے لوگ بھی، اسی دن اتنا پانی بھر لیتے کہ انہیں اگلے دن ضرورت ہی نہ پڑتی۔

جب یہودی کی باری کا دن آتا تو کوئی بھی اس کے پاس پانی خریدنے نہیں جاتا۔ یہودی کو اپنی غلطی اور نقصان کا شدت سے احساس ہوا۔ اس کا منافع بالکل صفر ہو گیا۔ تھک ہار کر وہ خود حضرت عثمان غنی (رض) کے پاس آیا اور منت کرنے لگا کہ وہ باقی آدھا کنواں بھی خرید لیں۔

حضرت عثمان (رض) نے مزید آٹھ ہزار درہم (8,000 Dirhams) ادا کیے اور اس طرح کل بیس ہزار درہم میں وہ کنواں مکمل طور پر خرید لیا۔ آپ نے وہ کنواں ہمیشہ کے لیے اللہ کی راہ میں (وقف) کر دیا۔ امیر، غریب، مسلم، غیر مسلم، یہاں تک کہ جانوروں کے لیے بھی اس کا پانی مفت کر دیا گیا۔

آج تک جاری رہنے والا صدقہ جاریہ

نبی کریم ﷺ اپنے وعدے کے سچے تھے۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو جنت کی بشارت دی۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حضرت عثمان (رض) کا یہ صدقہ جاریہ (Sadaqah Jariyah) چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی قائم ہے۔ بئرِ رومہ آج بھی مدینہ منورہ میں موجود ہے۔ اس کے ارد گرد کھجوروں کا ایک بہت بڑا باغ لگایا گیا، جس کی آمدنی آج تک غریبوں اور یتیموں پر خرچ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب کے بینک میں آج بھی باقاعدہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کے نام کا ایک اکاؤنٹ موجود ہے، جس میں اس باغ کی آمدنی جمع ہوتی ہے۔

یہ ہے اسلام کی سچی سخاوت کی وہ لازوال مثال جس نے یہ ثابت کر دیا کہ جو مال اللہ کی راہ میں خلوصِ نیت سے دیا جائے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ رہتی دنیا تک بڑھتا رہتا ہے۔

The Moral of the Waqia (سبق):

  • جو دولت اللہ کی راہ میں مخلوقِ خدا کی بھلائی کے لیے خرچ کی جائے (صدقہ جاریہ)، وہ کبھی کم نہیں ہوتی، بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں ابدی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔
  • Wealth spent in the path of Allah for the welfare of humanity (Sadaqah Jariyah) never decreases. It becomes a source of eternal success in this world and the Hereafter.

Tags:

Islamic Stories in Urdu Islamic Waqiat Islami Kahaniyan Sachi Kahaniyan Sahaba Ke Waqiat Islamic Moral Stories Imaan Afroz Waqiat Islami Tarbiyat Prophets Stories Bachon Ki Islami Kahaniyan اسلامی کہانیاں اسلامی واقعات سچے واقعات صحابہ کے واقعات

Share this Story:

Link copied to clipboard!

Leave a Comment

Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.