An impatient boy learning to plant a tree

The Boy Who Wanted It Now (جلدی باز احمد)

By VerseZip | Feb 22, 2026

احمد آٹھ سال کا ایک بہت ہی پیارا اور ذہین بچہ تھا، لیکن اس میں ایک بہت بڑی خامی تھی—اسے ہر چیز فوراً چاہیے ہوتی تھی۔ وہ اس جدید دور کا بچہ تھا جہاں فاسٹ فوڈ منٹوں میں گھر آ جاتا ہے، پسندیدہ کارٹون ایک کلک پر چل پڑتے ہیں اور ویڈیو گیمز سیکنڈوں میں ڈاؤن لوڈ ہو جاتے ہیں۔ اسے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ اگر کبھی انٹرنیٹ کی رفتار تھوڑی سی بھی کم ہو جاتی یا اس کی امی کو کھانا دینے میں دو منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی، تو احمد غصے سے لال پیلا ہو جاتا، پیر پٹخنے لگتا اور چیخنے چلانے لگتا۔

اس کے دادا جان، جو ایک بہت ہی سمجھدار، بردبار اور تجربہ کار انسان تھے، احمد کی اس جلدی بازی کی عادت سے کافی پریشان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ زندگی میں ہر چیز ایک بٹن دبانے سے نہیں ملتی، اور اگر احمد نے صبر کرنا نہ سیکھا تو وہ آگے چل کر حقیقی زندگی کی مشکلات میں بہت مایوس ہوگا۔

ایک دن، دادا جان نے احمد کو اپنے پاس بلایا اور اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا، خاکی رنگ کا بیج دیا۔ احمد نے حیرت سے بیج کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور پوچھا، "دادا جان، یہ کیا ہے؟ کیا یہ کوئی جادوئی بیج ہے جس سے راتوں رات سیبوں کا درخت نکل آئے گا اور میں کل ہی اس سے پھل توڑ کر کھا سکوں گا؟"

دادا جان مسکرائے اور نرمی سے بولے، "بیٹا، یہ ایک بہت ہی خاص اور خوبصورت پودے کا بیج ہے۔ لیکن اس کا جادو صرف ایک خاص شرط پر کام کرتا ہے۔ اور وہ شرط ہے... 'وقت اور صبر'۔ اگر تم اسے زمین میں بو کر روزانہ پانی دو گے، تو یہ تمہیں ایک ایسا تحفہ دے گا جو کسی بھی جلدی ملنے والے ویڈیو گیم سے زیادہ خوشی دے گا۔"

احمد جادوئی پودے کی بات سن کر بہت پرجوش ہو گیا۔ اس نے فوراً باغیچے میں جا کر ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا، بیج اندر ڈالا، مٹی ڈالی اور اسے پانی دے دیا۔ اس رات وہ بڑی مشکل سے سویا، بار بار کروٹیں بدلتا رہا، یہ سوچتے ہوئے کہ صبح تک وہاں ایک شاندار اور بڑا پودا اگ چکا ہوگا۔

اگلی صبح، احمد سورج نکلنے سے پہلے ہی بھاگتا ہوا باغیچے میں گیا۔ لیکن جب اس نے اس جگہ کو دیکھا تو وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی وہ رات کو چھوڑ کر گیا تھا۔ مٹی کا ایک ذرہ بھی نہیں ہلا تھا اور پودے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ احمد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، اس نے زمین پر پیر مارا اور چلایا، "یہ بیج بالکل خراب ہے! دادا جان نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ میں اسے ابھی کھود کر باہر نکالتا ہوں اور کوڑے دان میں پھینکتا ہوں!"

وہ بیج نکالنے ہی لگا تھا کہ دادا جان وہاں آ گئے۔ انہوں نے احمد کا ہاتھ پیار سے پکڑا اور اسے اپنے ساتھ محلے کے ایک پرانے پارک میں لے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑا، صدیوں پرانا برگد کا درخت تھا۔ اس کی شاخیں اتنی بڑی اور گھنی تھیں کہ پورا پارک اس کے ٹھنڈے سائے میں تھا۔

دادا جان نے درخت کے مضبوط تنے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، "احمد بیٹا، کیا تم جانتے ہو کہ اس عظیم الشان درخت کو اتنا بڑا اور مضبوط بننے میں کتنے سال لگے؟" احمد نے معصومیت سے سر ہلایا۔

دادا جان نے سمجھاتے ہوئے کہا، "اسے کئی دہائیاں لگی ہیں۔ ایک چھوٹی سی جنگلی گھاس صرف ایک دن میں اگتی ہے، لیکن وہ ایک ہی ہفتے میں مر بھی جاتی ہے یا کوئی بھی اسے پاؤں تلے روند دیتا ہے۔ لیکن ایک مضبوط درخت سالوں کا وقت لیتا ہے۔ جب تم بیج بوتے ہو، تو وہ پہلے زمین کے اندھیرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے، وہ کام جو تمہیں نظر نہیں آتا۔ اگر تم اسے جلدی میں باہر نکال لو گے، تو وہ کبھی ایک شاندار پودا نہیں بن پائے گا۔ زندگی میں ہر بڑی، پائیدار اور خوبصورت چیز اپنا وقت مانگتی ہے۔"

احمد کو دادا جان کی گہری بات سمجھ آ گئی۔ اسے اپنی بے صبری پر سخت شرمندگی محسوس ہوئی۔ اس نے دادا جان سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ اب کبھی جلد بازی نہیں کرے گا۔ اس دن کے بعد، احمد روزانہ صبح اٹھ کر اپنے بیج کو پانی دیتا، اس کے ارد گرد سے جنگلی گھاس صاف کرتا اور بڑی محبت سے اس کا خیال رکھتا۔ اب وہ اس بات پر غصہ نہیں کرتا تھا کہ پودا کیوں نہیں نکل رہا، بلکہ وہ اس سارے عمل (process) کو انجوائے کرنے لگا تھا۔

پھر ایک خوبصورت صبح، جب احمد معمول کے مطابق پانی دینے گیا، تو اس نے دیکھا کہ مٹی کا سینہ چیر کر ایک ننھی سی، ہری اور چمکدار کونپل (shoot) باہر نکل آئی ہے۔ سورج کی روشنی میں وہ ننھا سا پودا مسکراتا ہوا لگ رہا تھا۔ اس ننھے سے پودے کو دیکھ کر احمد کے دل میں جو خوشی، فخر اور سکون محسوس ہوا، وہ اسے آج تک کسی مہنگے کھلونے یا ویڈیو گیم کو فوراً حاصل کر کے بھی نہیں ملا تھا۔ احمد نے جان لیا تھا کہ محنت کے بعد صبر کا پھل واقعی بہت میٹھا اور دیرپا ہوتا ہے۔

The Moral of the Story:

  • اچھی اور بڑی چیزوں کے حصول کے لیے ہمیشہ صبر اور وقت درکار ہوتا ہے۔
  • Great things take time and patience. A weed grows in a day, but a strong tree takes years.

Tags:

Patience Story Urdu Moral Stories Kids Kahaniyan Short Stories in Urdu Character Building Stories Akhlaqi Kahaniyan Bachon Ki Kahaniyan Urdu Kahaniyan اخلاقی کہانیاں اردو کہانیاں

Share this Story:

Link copied to clipboard!

Leave a Comment

Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.