ایک بہت ہی خوبصورت اور گھنے جنگل میں ٹیٹو نام کا ایک چھوٹا سا کچھوا رہتا تھا۔ جنگل کے باقی تمام جانور اپنی کسی نہ کسی خوبی کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ مور کے پنکھ اتنے رنگین اور چمکدار تھے کہ جب وہ ناچتا تو سب اسے دیکھتے رہ جاتے۔ طوطے کے پر چمکدار سبز اور چونچ شوخ سرخ تھی، جبکہ چیتے کی کھال پر بنے خوبصورت سیاہ دھبے اسے بہت پرکشش بناتے تھے۔ ان سب کو دیکھ کر ٹیٹو کچھوا اکثر اداس ہو جایا کرتا تھا۔
اسے اپنا خول (Shell) بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ سوچتا، "میرا یہ خول کتنا بھاری، کھردرا اور بدنما ہے۔ اس کا رنگ بھی مٹی جیسا خاکی اور سلیٹی ہے۔ قدرت نے مجھے خوبصورتی کیوں نہیں دی؟" احساسِ کمتری کے مارے وہ اکثر درختوں کی جھاڑیوں میں چھپا رہتا تاکہ دوسرے جانور اس کی بدصورتی کا मजाक نہ اڑائیں۔
ایک دن، جنگل میں چنّو نام کا ایک شریر اور عقلمند بندر آیا جسے رنگ و روغن (Painting) کا بہت شوق تھا۔ وہ درختوں کے پتوں اور پھولوں کے رس سے مختلف رنگ بناتا تھا۔ ٹیٹو کچھوے کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا چنّو بندر کے پاس گیا اور بولا، "چنّو بھائی! کیا تم میرے اس بدصورت خول کو کسی خوبصورت رنگ سے پینٹ کر سکتے ہو؟ میں بھی جنگل کے باقی جانوروں کی طرح پرکشش دکھنا چاہتا ہوں۔"
چنّو بندر پہلے تو ہنسا، پھر اس نے اپنی بالٹیوں سے چمکدار گلابی (Pink) اور گہرا پیلا (Yellow) رنگ نکالا۔ اس نے ٹیٹو کے خول کو ایک دم شوخ گلابی رنگ کر دیا اور اس پر چمکتے ہوئے پیلے رنگ کے ستارے بنا دیے۔ ٹیٹو نے جب تالاب کے صاف پانی میں اپنا عکس دیکھا تو خوشی سے اچھل پڑا۔ اب وہ جنگل کا سب سے انوکھا اور رنگین جانور لگ رہا تھا۔
اس دن کے بعد ٹیٹو نے جھاڑیوں میں چھپنا چھوڑ دیا۔ وہ فخر سے جنگل کے بیچوں بیچ، کھلے میدان میں چلنے لگا تاکہ سب اسے دیکھیں۔ کچھ جانور اس کے نئے رنگوں کو دیکھ کر حیران ہوئے اور کچھ نے اس کی تعریف بھی کی۔ ٹیٹو کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ شوخ رنگ اور دکھاوا اسے کتنی بڑی مصیبت میں ڈالنے والا ہے۔
دوپہر کے وقت، آسمان کی بلندیوں پر ایک نہایت بھوکا اور خطرناک عقاب اڑ رہا تھا۔ جنگل کا رنگ چونکہ سبز اور خاکی ہوتا ہے، اس لیے عقاب کو زمین پر شکار ڈھونڈنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ اچانک اس کی تیز عقابی نگاہوں نے گھاس کے درمیان ایک شوخ گلابی رنگ کی چیز کو چلتے ہوئے دیکھا۔ عقاب نے فوراً پہچان لیا کہ یہ کوئی جانور ہے۔ اس نے اپنے پر سمیٹے اور تیر کی سی تیزی کے ساتھ نیچے کی طرف غوطہ لگایا۔
ٹیٹو مزے سے چل رہا تھا کہ اچانک اس پر ایک بڑا سا سایہ پڑا۔ اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو ایک خوفناک عقاب اپنے تیز پنجے کھولے اس کی طرف جھپٹ رہا تھا۔ ٹیٹو کی خوف کے مارے جان نکل گئی۔ اس کے پاس بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس نے فوراً اپنا سر اور چاروں ٹانگیں اپنے اسی خول کے اندر کھینچ لیں۔
عقاب نے آ کر اپنے تیز اور نوکیلے پنجے اس گلابی خول پر مارے، لیکن خول پتھر کی طرح سخت تھا۔ اس نے اپنی مضبوط چونچ سے خول کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہا۔ قدرت کا دیا ہوا وہ بھاری اور کھردرا خول دراصل ٹیٹو کی جان بچانے والی سب سے مضبوط ڈھال (Armor) تھا۔ کچھ دیر کی بے سود محنت کے بعد، عقاب تھک ہار کر وہاں سے اڑ گیا۔
جب خطرہ ٹل گیا تو ٹیٹو آہستہ سے اپنے خول سے باہر نکلا۔ وہ بری طرح کانپ رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ اسی رات زور دار بارش ہوئی جس نے اس کے خول پر لگا سارا گلابی اور پیلا رنگ دھو ڈالا۔ اگلی صبح جب ٹیٹو نے اپنا قدرتی خاکی اور کھردرا خول دیکھا، تو اس نے اسے پیار سے چوما اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ خوبصورتی اور دکھاوا کسی کام کا نہیں، قدرت نے جو چیز جس مقصد کے لیے بنائی ہے، وہ اپنے آپ میں بالکل مکمل اور بہترین ہے۔
The Moral of the Story:
- قدرت کی بنائی ہوئی ہر چیز میں حکمت ہے۔ اپنی ذات پر قناعت کریں اور شکر ادا کریں، کیونکہ آپ کا اصل روپ ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
- Be content with how you are made. Nature's design is flawless, and what seems like a burden may actually be your greatest protection.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.