ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جس کے پاس ایک بہت پرانا اور بوڑھا گدھا تھا۔ اس گدھے نے اپنی ساری جوانی کسان کی خدمت میں گزاری تھی۔ وہ کھیتوں سے بھاری بوجھ اٹھاتا اور کسان کا ہر حکم مانتا۔ لیکن اب وہ بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا، اس لیے کسان اسے زیادہ کام نہیں دیتا تھا۔
ایک دوپہر، کسان کا یہ بوڑھا گدھا کھیت کے کنارے گھاس چر رہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ کھیت کے بیچوں بیچ بنے ایک بہت پرانے اور گہرے خشک کنویں میں جا گرا۔ کنواں کافی گہرا تھا، گدھے کو چوٹ تو زیادہ نہیں آئی لیکن وہ اتنی گہرائی سے باہر نکلنے کے قابل نہیں تھا۔ وہ خوف کے مارے زور زور سے رینگنے اور چلانے لگا۔
کسان نے جب گدھے کی آواز سنی تو بھاگ کر کنویں کے پاس آیا۔ اس نے نیچے جھانک کر دیکھا تو اس کا دل بھر آیا۔ گدھا بے بسی سے اوپر دیکھ رہا تھا۔ کسان نے سوچا کہ گدھے کو باہر کیسے نکالا جائے۔ اس نے رسیاں لانے کا سوچا، لیکن کنواں اتنا گہرا اور گدھا اتنا بھاری تھا کہ اسے اکیلے کھینچنا ناممکن تھا۔ کسان نے گاؤں کے کچھ لوگوں کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا۔
سب نے مل کر صورتحال کا جائزہ لیا اور آخر کار یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ گدھا بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور اب کسی کام کا نہیں، اور یہ سوکھا کنواں ویسے بھی خطرناک ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کنویں کو مٹی سے بھر کر بند کر دیا جائے، اور گدھے کو اسی کے اندر دفن کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ کسان کے لیے تکلیف دہ تھا، لیکن اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
کسان اور گاؤں والوں نے بیلچے (shovels) اٹھائے اور کنویں میں مٹی ڈالنا شروع کر دی۔ جب پہلی بار مٹی گدھے کی پیٹھ پر گری، تو اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ موت کے خوف سے اور بھی زور زور سے رونے اور چلانے لگا۔ اوپر کھڑے لوگوں کو اس کی چیخیں سن کر دکھ تو ہو رہا تھا، لیکن وہ مسلسل مٹی ڈالتے رہے۔
پھر اچانک، کنویں سے آنے والی آوازیں بالکل بند ہو گئیں۔ کسان کو لگا کہ شاید گدھا مٹی کے بوجھ تلے دب کر مر گیا ہے۔ اس نے حیرت سے نیچے جھانکا تو ایک عجیب و غریب اور حیران کن منظر اس کے سامنے تھا۔
گدھا مرا نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک زبردست ترکیب لڑائی تھی۔ جیسے ہی اوپر سے مٹی کی کوئی کھیپ اس کی پیٹھ پر گرتی، وہ زور سے اپنا جسم جھٹکتا، مٹی کو نیچے گرا دیتا اور پھر اس گری ہوئی مٹی کے اوپر قدم رکھ کر کھڑا ہو جاتا۔ وہ رو نہیں رہا تھا، بلکہ پورے ہوش و حواس سے ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔
اوپر سے لوگ مٹی ڈالتے جاتے—گدھا اسے جھٹکتا اور ایک قدم اوپر ہو جاتا۔ مٹی گرتی، وہ جھٹکتا، اور ایک اور قدم اوپر ہو جاتا! (Shake it off and step up!)
دیکھتے ہی دیکھتے، گاؤں والے حیرت سے دم بخود رہ گئے جب کنواں مٹی سے بھرنے لگا اور گدھا مسلسل اوپر آتا گیا۔ اور پھر وہ لمحہ آ گیا جب گدھا کنویں کے کنارے تک پہنچ گیا، اس نے ایک چھلانگ لگائی اور آرام سے باہر آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ تھکا ہوا ضرور تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی۔
کسان نے خوشی سے آگے بڑھ کر اپنے بوڑھے گدھے کے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ اس دن اس بوڑھے گدھے نے گاؤں والوں کو زندگی کا سب سے بڑا سبق دیا تھا: جب دنیا آپ پر مشکلات کی مٹی ڈالے، اور آپ کو دبانے کی کوشش کرے، تو ہمت مت ہاریں۔ ان مشکلات کو جھٹک دیں اور انہیں اپنی کامیابی کی سیڑھی بنا کر اوپر چڑھ جائیں۔
The Moral of the Story:
- زندگی جب آپ پر مشکلات کی مٹی ڈالے تو رونے کے بجائے اسے جھٹک دیں، اور اسی مٹی کو اپنی کامیابی کی سیڑھی بنا لیں۔
- Life will throw dirt at you. The trick to getting out of the well is to shake it off and step up. Turn your troubles into stepping stones.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.