عائشہ ایک بہت ہی ہونہار، ذہین اور محنتی طالبہ تھی۔ پڑھائی ہو یا کھیل کود، وہ ہر میدان میں ہمیشہ اول آنا چاہتی تھی۔ اس سال اسکول میں انگریزی الفاظ کے ہجّے (Spelling Bee) کا ایک بہت بڑا مقابلہ ہونے جا رہا تھا۔ جیتنے والے کے لیے ایک نہایت شاندار، چمکدار 'سونے کی ٹرافی' انعام میں رکھی گئی تھی۔ عائشہ نے جب اس شیشے کے ڈبے میں رکھی ٹرافی کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ ہر صورت میں یہ ٹرافی جیتے گی اور اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرے گی۔ دن رات ایک کر کے اس نے مشکل سے مشکل الفاظ یاد کرنا شروع کر دیے۔
بالآخر، وہ دن آ گیا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔ اسکول کا بڑا ہال بچوں اور ان کے والدین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مقابلہ شروع ہوا اور ایک ایک کر کے بچے مشکل الفاظ کے ہجے نہ بتا پانے کی وجہ سے باہر ہوتے گئے۔ آخر میں اسٹیج پر صرف عائشہ اور اس کا کلاس فیلو علی بچ گئے۔ ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی اور سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔
اب عائشہ کی باری تھی۔ ہیڈ جج نے عائشہ سے آخری اور سب سے مشکل لفظ پوچھا۔ لفظ سنتے ہی عائشہ کا دماغ بالکل سن ہو گیا۔ اس نے وہ لفظ رات کو ہی پڑھا تھا لیکن اس وقت گھبراہٹ کے مارے وہ اس کے ہجے بالکل بھول چکی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے سوچنے کے لیے نظریں نیچے جھکائیں، تو اچانک اس کی نگاہ جج کی میز پر پڑی۔ جج کا پرچہ تھوڑا سا سرک کر اس کی طرف ہو گیا تھا، جس پر اسی لفظ کے صحیح ہجے بڑے اور واضح حروف میں لکھے تھے۔
اس لمحے عائشہ کے اندر ایک شدید جنگ شروع ہو گئی۔ اس کے دل کی ایک آواز نے کہا، "بس ایک نظر دیکھ لو، کسی کو پتہ نہیں چلے گا اور وہ خوبصورت ٹرافی تمہاری ہو جائے گی!" ہارنے کے ڈر اور لالچ میں آ کر عائشہ نے وہ ہجے دیکھ لیے اور فوراً مائیک میں بالکل صحیح جواب دے دیا۔ پورا ہال تالیوں کی گونج سے گونج اٹھا۔ عائشہ مقابلہ جیت چکی تھی! پرنسپل نے وہ شاندار سونے کی ٹرافی اس کے ہاتھوں میں تھما دی اور سب لوگ اسے مبارکباد دینے لگے۔
گھر پہنچ کر اس کے والدین بے حد خوش تھے۔ انہوں نے ٹرافی کے ساتھ عائشہ کی بہت سی تصویریں بنائیں اور اسے شاباش دی۔ لیکن عائشہ کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی اور گھبراہٹ تھی۔ جب اس نے وہ ٹرافی اپنے کمرے کی شیلف پر سجائی، تو اسے اس کی چمک بالکل پھیکی اور جھوٹی لگنے لگی۔ اس رات عائشہ سو نہیں سکی۔ جب بھی وہ آنکھیں بند کرتی، اسے ایسا لگتا جیسے وہ ٹرافی اسے دیکھ کر طنز سے مسکرا رہی ہو اور کہہ رہی ہو، "تم ایک دھوکے باز ہو! تم نے یہ جیت چرائی ہے۔"
اسے شدت سے احساس ہوا کہ بے ایمانی سے جیتی ہوئی کوئی بھی چیز کبھی دلی خوشی نہیں دے سکتی۔ اس کے ضمیر کا بوجھ اس بھاری ٹرافی سے کئی گنا زیادہ وزنی ہو چکا تھا۔ اگلی صبح عائشہ نے ایک بہت ہی بہادرانہ اور مشکل فیصلہ کیا۔ اس نے وہ ٹرافی اٹھائی، اسے اپنے بیگ میں ڈالا اور اسکول پہنچ کر سیدھی پرنسپل کے دفتر گئی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ندامت سے آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے ٹرافی پرنسپل کی میز پر رکھی اور روتے ہوئے سارا سچ بتا دیا کہ اس نے آخری لفظ جج کے پرچے سے نقل کر کے بتایا تھا۔ پرنسپل نے بڑے غور اور حیرت سے اس چھوٹی سی بچی کو دیکھا۔ انہیں غصہ آنے کے بجائے اس کی سچائی اور ضمیر کی بیداری پر فخر محسوس ہوا۔
پرنسپل صاحب نے اپنی کرسی سے اٹھ کر اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا، "عائشہ بیٹا! یہ ٹرافی واپس کرنے اور اپنی غلطی ماننے کے لیے اس سے بھی زیادہ ہمت اور طاقت چاہیے تھی جتنی اسے جیتنے کے لیے درکار تھی۔ تم نے آج ایک مقابلہ ضرور ہارا ہے، لیکن تم نے اپنا کردار، اپنا ضمیر اور میری نظروں میں اپنی بے پناہ عزت جیت لی ہے۔ یہ ایمانداری زندگی کا سب سے بڑا انعام ہے۔"
عائشہ جب دفتر سے باہر نکلی تو اس کے ہاتھ خالی تھے، لیکن اس کا دل ایک پرندے کے پر کی طرح ہلکا اور پرسکون تھا۔ اس کے چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ تھی۔ اس دن اس نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سبق سیکھا تھا کہ سچائی کا سکون اور ایمانداری کی ہار، دنیا کے ہر سونے اور جھوٹی جیت سے ہزار درجے بہتر ہے۔
The Moral of the Story:
- ایمانداری کی ہار، بے ایمانی کی جیت سے بہت بہتر ہے۔ سچائی ہمیشہ سکون دیتی ہے۔
- An honest defeat is far better than a dishonest victory. Truth brings lasting peace.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.