An underwater city glowing with pearls and coral

The City Under the Lake (جھیل کے نیچے بسا شہر)

By VerseZip | Feb 28, 2026

ایک بہت ہی خوبصورت وادی میں ایک شفاف اور نیلی جھیل تھی، جسے لوگ "نیلم جھیل" کہتے تھے۔ اس جھیل کا پانی اتنا صاف تھا کہ اس کی تہہ میں پڑے چھوٹے چھوٹے کنکر بھی ایسے لگتے جیسے ہیرے چمک رہے ہوں۔ اسی جھیل کے کنارے عادل نامی ایک نوجوان مچھیرہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ عادل کو جھیل سے بہت پیار تھا، وہ کبھی بھی ضرورت سے زیادہ مچھلیاں نہیں پکڑتا تھا اور جھیل کی صفائی کا بہت خیال رکھتا تھا۔

ایک رات، جب پورا چاند آسمان پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، عادل اپنی چھوٹی سی کشتی میں جھیل کے وسط میں بیٹھا تھا۔ اچانک اسے جھیل کی گہرائی میں ایک تیز سبز روشنی نظر آئی۔ تجسس کے مارے عادل نے جھیل میں غوطہ لگا دیا۔ جوں جوں وہ نیچے جاتا گیا، اسے جھیل کی تہہ میں ایک بہت بڑا غار نظر آیا جس کے گرد جادوئی بلبلے رقص کر رہے تھے۔

جب عادل اس غار کے اندر داخل ہوا، تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس کے سامنے ایک عظیم الشان شہر تھا جس کے مکانات گلابی مرجان (Coral) سے بنے تھے اور سڑکوں پر سفید موتی بچھے ہوئے تھے۔ شہر کے گرد ایک شفاف ڈھال تھی جس کی وجہ سے وہاں پانی نہیں آ سکتا تھا۔ وہاں کے لوگ نہایت خوبصورت تھے اور ان کے لباس سمندری ریشم سے بنے ہوئے تھے۔

وہاں اسے شہزادی عنایہ ملی جو اس شہر کی محافظ تھی۔ اس نے عادل کو بتایا، "اے انسان! تم یہاں وہ پہلے شخص ہو جس کا دل جھیل کی طرح صاف ہے۔ ہمارا یہ شہر صدیوں سے یہاں آباد ہے، لیکن اب ہماری زندگی خطرے میں ہے۔" عنایہ نے جھیل کی سطح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھایا کہ وہاں سے کالا دھواں اور کوڑا کرکٹ نیچے آ رہا تھا۔ "اوپر کی دنیا کے لوگ جھیل میں گندگی پھینک رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارا جادوئی نور ختم ہو رہا ہے۔ اگر یہ روشنی بجھ گئی تو ہمارا شہر ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔"

عادل کا دل بھر آیا۔ اس نے شہزادی سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی دنیا کے لوگوں کو سمجھائے گا۔ اگلے دن عادل نے گاؤں والوں کو جمع کیا اور انہیں اس جادوئی شہر کے بارے میں بتایا۔ پہلے تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، لیکن جب عادل انہیں جھیل کے کنارے لے گیا اور وہاں سے نکلنے والی مدھم پڑتی روشنی دکھائی، تو انہیں احساس ہوا۔

عادل نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر ایک مہم شروع کی۔ انہوں نے جھیل میں کچرا پھینکنا بند کر دیا اور مل کر جھیل کے کناروں کو صاف کیا۔ آہستہ آہستہ جھیل کا پانی دوبارہ شفاف ہونے لگا۔ ایک مہینے بعد، جب دوبارہ چاند نکلا، تو جھیل کی تہہ سے ایک ایسی زوردار روشنی نکلی جس نے پوری وادی کو روشن کر دیا۔

شہزادی عنایہ نے جھیل کی سطح پر آ کر عادل کو ایک جادوئی سیپ (Shell) تحفے میں دیا، جس میں سے ہر وقت میٹھا گیت سنائی دیتا تھا۔ اس نے کہا، "تم نے نہ صرف ہمارا شہر بچایا بلکہ اپنی وادی کو بھی ایک بڑی بیماری سے بچا لیا۔ اب تم اس جھیل کے ابدی محافظ ہو۔" اس دن کے بعد عادل اور وادی کے لوگ جھیل کی حفاظت اپنی اولاد کی طرح کرنے لگے اور جھیل کے نیچے بسا وہ خوبصورت شہر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

The Moral of the Story:

  • فطرت کی حفاظت دراصل ہماری اپنی زندگی کی حفاظت ہے۔ جب ہم زمین اور پانی کا خیال رکھتے ہیں، تو قدرت ہمیں جادوئی نعمتوں سے نوازتی ہے۔
  • Protecting nature is protecting our own lives. When we care for our environment, the universe rewards us with magic and prosperity.

Tags:

Urdu Fairy Tales Urdu Kahaniyan Fairy Tales in Urdu Classic Urdu Stories Pariyion Ki Kahani Old Stories in Urdu Urdu Short Stories Read Kahani Online Qadeem Kahaniyan اردو کہانیاں پریوں کی کہانیاں پرانی کہانیاں

Share this Story:

Link copied to clipboard!

Leave a Comment

Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.