بہت پرانے وقتوں کا ذکر ہے کہ شہرِ اصفہان میں جعفر نام کا ایک سوداگر رہتا تھا۔ جعفر اپنی تجارت اور مال و دولت سے زیادہ اپنی ایمانداری کے لیے مشہور تھا۔ وہ کبھی کسی سے جھوٹ نہیں بولتا تھا اور نہ ہی ناپ تول میں کمی کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دشمن کم اور چاہنے والے زیادہ تھے۔
لیکن اسی شہر میں منصور نامی ایک دوسرا سوداگر بھی رہتا تھا جو جعفر کی شہرت سے سخت جلتا تھا۔ منصور ایک مکار اور حاسد انسان تھا۔ اس نے جعفر کو نیچا دکھانے کے لیے ایک خوفناک منصوبہ بنایا۔ ایک رات منصور نے چپکے سے بادشاہ کے اصطبل سے ایک نہایت قیمتی ہیرا چوری کیا اور اسے جعفر کے سامان میں چھپا دیا۔
اگلی صبح جب بادشاہ کے سپاہیوں نے تلاشی لی تو وہ ہیرا جعفر کے بیگ سے برآمد ہوا۔ جعفر حیرت زدہ رہ گیا، لیکن اس کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ اسے فوراً گرفتار کر کے دربار میں پیش کیا گیا۔ بادشاہ کو بھی جعفر کی ایمانداری پر بھروسہ تھا، لیکن ثبوت اس کے خلاف تھے۔ منصور نے دربار میں کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا، "بادشاہ سلامت! چور کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے، اس کی فطرت نہیں بدلتی۔"
جعفر نے پرسکون آواز میں کہا، "عالی جاہ! میرا ضمیر صاف ہے۔ اگر آپ مجھے موقع دیں تو میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکتا ہوں۔" بادشاہ نے پوچھا کہ وہ یہ کیسے کرے گا؟ جعفر نے بتایا کہ "وادیِ خاموشی" میں ایک قدیم اور جادوئی باغ ہے جہاں 'سچائی کا گلاب' اگتا ہے۔ یہ گلاب صرف اس وقت کھلتا ہے اور اپنی خوشبو پھیلاتا ہے جب کوئی سچا انسان اسے چھوتا ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں گا تو وہ گلاب مرجھا جائے گا۔"
بادشاہ نے جعفر کو تین دن کی مہلت دی اور منصور کو اس کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ گواہ رہے۔ راستے میں انہیں ایک بوڑھا مسافر ملا جو پیاس سے نڈھال تھا۔ جعفر نے اپنا سارا پانی اسے پلا دیا، جبکہ منصور نے اسے ٹھوکر ماری اور آگے بڑھ گیا۔ جعفر کی اس ہمدردی نے بوڑھے مسافر کی دعا جیت لی۔
جب وہ وادی میں پہنچے تو وہاں ہزاروں گلاب تھے، لیکن 'سچائی کا گلاب' ایک سونے کے پیالے میں بند تھا۔ منصور نے پہلے اسے چھونے کی کوشش کی، لیکن جیسے ہی اس کا ہاتھ قریب پہنچا، پورا باغ کالا پڑنے لگا اور ایک عجیب سی بدبو پھیل گئی۔ منصور ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔
اب جعفر کی باری تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور اللہ کا نام لے کر گلاب کی پنکھڑیوں کو چھوا۔ ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، اور پھر اچانک پورا باغ ایک نہایت مسحور کن روشنی سے بھر گیا۔ وہ گلاب نہ صرف کھل اٹھا بلکہ اس کی خوشبو میلوں دور تک پھیل گئی۔ اس معجزے کو دیکھ کر منصور کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے وہیں سب کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کر لیا۔
جعفر جب واپس محل پہنچا تو بادشاہ نے اسے گلے سے لگا لیا اور منصور کو کڑی سزا سنائی۔ جعفر نے اس دن یہ ثابت کر دیا کہ سچائی کی خوشبو کبھی نہیں چھپتی اور ایک صاف ضمیر انسان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی۔ آج بھی اصفہان کے لوگ جعفر سوداگر اور اس جادوئی گلاب کی کہانی فخر سے سناتے ہیں۔
The Moral:
- سچائی کی طاقت ہر سازش کو ناکام بنا دیتی ہے۔ ایمانداری انسان کا وہ زیور ہے جو اسے ہر مشکل میں سرخرو کرتا ہے۔
- Truth always prevails over lies. Honesty is a light that clears the fog of every conspiracy.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.