بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، جب کائنات ابھی نئی نئی تھی اور ستارے رات کے وقت زمین والوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں چاند آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن اور چمکدار ہوا کرتا تھا۔ اس کی چمک کی اصل وجہ ایک نہایت قیمتی اور جادوئی "سفید موتی" تھا جو چاند کے بالکل وسط میں جڑا ہوا تھا۔ یہ موتی پوری کائنات کی روشنی کا منبع تھا۔
ایک سرد اور طوفانی رات، جب بادلوں نے پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، اچانک ایک زوردار بجلی کڑکی۔ اس جھٹکے سے چاند کا وہ جادوئی موتی اپنی جگہ سے ہلا اور ٹوٹ کر زمین کی طرف گرنے لگا۔ موتی گرتے ہی آسمان پر اداسی چھا گئی اور چاند کی روشنی اتنی مدھم ہو گئی کہ اسے پہچاننا مشکل ہو گیا۔ زمین پر اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ لوگ اپنے ہاتھ تک نہیں دیکھ سکتے تھے۔
اسی وادی میں زویہ نامی ایک چھوٹی اور نہایت رحم دل لڑکی رہتی تھی۔ وہ روزانہ رات کو چاند کی روشنی میں کتابیں پڑھا کرتی تھی، اس لیے اسے چاند سے ایک خاص لگاؤ تھا۔ جب چاند مدھم ہوا تو زویہ بہت پریشان ہوئی۔ ایک رات، جب وہ پانی لینے کے لیے قریبی خشک کنویں کے پاس گئی، تو اسے کنویں کی تہہ میں ایک عجیب سی چمک نظر آئی۔
زویہ نے ہمت جمع کی اور ایک رسی کے سہارے نیچے اتری۔ وہاں مٹی اور پتھروں کے درمیان ایک نہایت خوبصورت، دودھیا رنگ کا گول پتھر پڑا تھا جس سے دھیمی دھیمی نیلی روشنی نکل رہی تھی۔ جیسے ہی زویہ نے اسے چھوا، اسے اپنے پورے جسم میں ایک ٹھنڈک اور سکون محسوس ہوا۔ اسے فوراً احساس ہو گیا کہ یہ کوئی عام پتھر نہیں، بلکہ چاند کا کھویا ہوا موتی ہے۔
اچانک ایک آواز گونجی، "اے ننھی انسان! تم نے چاند کی قسمت کو ڈھونڈ لیا ہے۔" زویہ نے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک نورانی جگنو اڑ رہا تھا۔ جگنو نے بتایا کہ اس موتی کو واپس پہنچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے: اسے "سایوں کی سیڑھی" کے ذریعے آسمان تک لے جانا ہوگا، جو صرف سورج گرہن کے وقت نمودار ہوتی ہے۔
زویہ نے ارادہ کر لیا کہ وہ چاند کو اس کی روشنی واپس دلائے گی۔ وہ جنگل کے گہرے راستوں پر نکل پڑی۔ راستے میں اسے ایک زخمی الو ملا۔ زویہ نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر اس کے پر پر پٹی باندھی۔ الو نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک جادوئی پر دیا جو اسے اندھیرے میں راستہ دکھا سکتا تھا۔ آگے بڑھی تو اسے ایک چاندی جیسی لومڑی ملی جو بھوک سے نڈھال تھی۔ زویہ نے اپنی روٹی اسے کھلا دی۔ لومڑی نے بدلے میں اسے ایک ایسی گھنٹی دی جس کی آواز سن کر پہاڑوں کے راستے کھل جاتے تھے۔
بالآخر وہ اس اونچی چوٹی پر پہنچ گئی جہاں سے "سایوں کی سیڑھی" شروع ہوتی تھی۔ سورج گرہن شروع ہو چکا تھا اور آسمان پر سیاہ سائے ایک سیڑھی کی شکل اختیار کر رہے تھے۔ زویہ نے موتی کو اپنے سینے سے لگایا اور سیڑھی پر چڑھنا شروع کر دیا۔ جوں جوں وہ اوپر جا رہی تھی، ہوا سرد ہوتی جا رہی تھی اور خوفناک سائے اسے ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
لیکن زویہ نے ہمت نہیں ہاری۔ اسے ان جانوروں کی دعائیں یاد تھیں جن کی اس نے مدد کی تھی۔ جب وہ بالکل آخری زینے پر پہنچی تو اس کا سانس پھول رہا تھا۔ اس نے پوری قوت سے موتی کو آسمان کی طرف اچھال دیا۔ موتی ہوا میں لہراتا ہوا سیدھا چاند کی گود میں جا گرا۔
ایک لمحے میں پورا آسمان دودھیا روشنی سے نہال ہو گیا۔ چاند پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت اور روشن ہو کر مسکرانے لگا۔ ستاروں نے خوشی میں جھمکارا شروع کر دیا۔ زویہ جب زمین پر واپس آئی تو اس کے ارد گرد وہ تمام جانور اور وادی کے لوگ موجود تھے جو اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ اس رات چاند نے اپنی ایک کرن زویہ کے ماتھے پر رکھی، جس سے اسے یہ وردان ملا کہ اس کے دل میں ہمیشہ نیکی کی روشنی رہے گی۔
زویہ نے جان لیا تھا کہ جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور اپنے مقصد میں سچے ہوتے ہیں، تو پوری کائنات ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ آج بھی، جب کبھی چاند بہت زیادہ روشن ہوتا ہے، تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ زویہ کی اس سچی محبت اور ہمت کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔
The Moral of the Story:
- نیکی اور ہمدردی وہ روشنی ہے جو مشکل ترین راستوں کو بھی آسان بنا دیتی ہے۔ جب آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں، تو قدرت آپ کی مدد کرتی ہے۔
- Kindness and courage are lights that simplify the darkest paths. When you help others, the universe aligns to help you.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.