بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک دور دراز اور خوبصورت شہر میں سلمان نام کا ایک غریب لیکن نہایت ذہین اور محنتی لڑکا رہتا تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا اور انہیں بیچ کر اپنی بوڑھی ماں کا پیٹ پالتا تھا۔
ایک دن لکڑیاں کاٹتے ہوئے سلمان کو جنگل کے گہرے حصے میں ایک پرانی اور پراسرار غار ملی۔ غار کے اندر بہت اندھیرا تھا۔ جب وہ اندر گیا تو اس کی نظر ایک چمکتی ہوئی چیز پر پڑی۔ وہ مٹی سے اٹا ہوا ایک نہایت خوبصورت نیلے رنگ کا چراغ تھا۔ یہ کوئی عام چراغ نہیں تھا، بلکہ ایک خالص نیلم (Sapphire) سے تراشا گیا تھا۔ سلمان نے خوشی سے اسے اٹھایا اور سوچا کہ اسے بیچ کر وہ اپنی ماں کے لیے اچھا کھانا لے کر جائے گا۔
چراغ پر لگی مٹی صاف کرنے کے لیے سلمان نے جیسے ہی اپنی قمیض سے اسے رگڑا، اچانک غار میں ایک گہرا نیلا دھواں اٹھنے لگا۔ سلمان ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے پرانی کہانیوں میں سن رکھا تھا کہ چراغوں میں سے خوفناک اور دیوہیکل جن نکلتے ہیں، لیکن جب دھواں چھٹا تو منظر بالکل مختلف تھا۔
اس نیلے چراغ میں سے ایک چھوٹا سا، نہایت بوڑھا اور کمزور سا جن نمودار ہوا۔ اس نے آنکھوں پر ایک موٹی سی عینک پہنی ہوئی تھی اور اس کی سفید داڑھی زمین کو چھو رہی تھی۔ وہ جمائی لیتے ہوئے بولا، "ہزاروں سال بعد کسی نے مجھے جگایا ہے۔ بولو میرے آقا! تمہارا کیا حکم ہے؟"
سلمان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس نے فوراً کہا، "اے جن! کیا تم مجھے ایک اڑنے والا قالین اور ہیرے جواہرات سے بھرا ایک بہت بڑا صندوق دے سکتے ہو؟"
بوڑھے جن نے نرمی سے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا اور بولا، "نہیں بیٹا! میری جوانی کا جادو اور طاقت اب ختم ہو چکی ہے۔ میں اب کوئی خزانہ پیدا نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی محل بنا سکتا ہوں۔ میں اب صرف دانشمندی کا جن ہوں۔ میں تمہیں صرف اور صرف 'عقل اور مشورہ' دے سکتا ہوں۔ جب بھی تم کسی بڑی مشکل میں پھنسو گے، چراغ رگڑنا اور میں تمہیں ایک سچا اور بہترین مشورہ دوں گا۔"
سلمان تھوڑا مایوس تو ہوا لیکن وہ جانتا تھا کہ کوئی بھی تحفہ بیکار نہیں ہوتا۔ اس نے مسکرا کر چراغ اپنی جیب میں رکھ لیا۔ کچھ ہی مہینوں بعد، ان کے پورے ملک میں ایک شدید قحط پڑ گیا۔ بارش کی ایک بوند تک نہ برسی، دریا سوکھ گئے، اور فصلیں تباہ ہونے لگیں۔ لوگ پیاس سے مرنے لگے۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی شہر میں پانی واپس لانے کا حل بتائے گا، اسے آدھی سلطنت اور منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔
بڑے بڑے پہلوان اور نجومی آئے، کسی نے زمین کی کھدائی کی اور کسی نے جادو ٹونے کا سہارا لیا، لیکن سب ناکام رہے۔ جب پانی کی آخری بوند بھی ختم ہونے کے قریب تھی، تب سلمان نے اپنا نیلم کا چراغ نکالا اور اسے رگڑا۔
بوڑھا جن باہر آیا اور بولا، "سلمان بیٹا! اندھوں کی طرح وہاں مت کھودو جہاں پانی پہلے بہتا تھا۔ بلکہ شمال کی طرف ان اونچے پہاڑوں کی چٹانوں کے پاس جاؤ جہاں ہری کائی (Green Moss) سب سے زیادہ گہری اور تازہ ہو۔ وہی پہاڑ کے آنسوؤں (چشمے) کا راستہ ہے۔"
سلمان فوراً بادشاہ کے پاس گیا اور اسے جن کی بتائی ہوئی ترکیب بتائی۔ بادشاہ کے سپاہی سلمان کے ساتھ پہاڑوں کی طرف نکل پڑے۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد انہیں ایک بہت بڑی چٹان ملی جس کے گرد واقعی گہری اور تازہ ہری کائی لگی ہوئی تھی۔ جب سپاہیوں نے مل کر اس بھاری چٹان کو وہاں سے ہٹایا تو اس کے پیچھے سے ٹھنڈا، میٹھا اور شفاف پانی کا ایک بہت بڑا چشمہ پورے زور سے بہہ نکلا۔
یہ چشمہ دراصل پہاڑ کے اندر موجود ایک بہت بڑی جھیل سے آ رہا تھا جس کا راستہ اس چٹان نے صدیوں سے روکا ہوا تھا۔ پانی سیدھا بہتا ہوا شہر کے خشک دریا میں جا گرا۔ پورا شہر خوشی سے جھوم اٹھا اور لوگوں نے سلمان کو کندھوں پر اٹھا لیا۔
بادشاہ نے سلمان کے سامنے ہیرے اور سونے سے بھرا ایک بڑا صندوق رکھا۔ لیکن سلمان نے مسکرا کر کہا، "بادشاہ سلامت! سونا اور ہیرے انسان کی پیاس نہیں بجھا سکتے۔ اصل طاقت تو عقل اور دانشمندی میں چھپی ہے۔" بادشاہ اس غریب لڑکے کی گہری سوچ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے سلمان کو اپنا سب سے کم عمر اور خاص مشیر (Royal Advisor) بنا لیا۔ اس دن سلمان اور پورے شہر نے جان لیا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا جادو اور سب سے قیمتی خزانہ کوئی سونا یا چاندی نہیں، بلکہ سچی دانشمندی (Wisdom) ہے۔
The Moral of the Story:
- عقل اور دانشمندی دنیا کی سب سے بڑی دولت اور اصل جادو ہے۔ ایک اچھا مشورہ سونے کے ڈھیر سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
- Wisdom is the greatest wealth and true magic. A piece of good advice is worth more than a pile of gold.
Tags:
Share this Story:
Leave a Comment
Your feedback is important to us. Submitted comments are kept private and are for internal review only.